أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ أَبِي وَشُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، قَالَا: أنبأ اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَارِجًا مِنَ الْمَسْجِدِ فَاتَّبَعْتُهُ أَمْشِي وَرَاءَهُ وَلَا يَشْعُرُ بِي حَتَّى دَخَلَ نَخْلًا، فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَسَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ وَأَنَا وَرَاءَهُ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّ اللهَ تَعَالَى تَوَفَّاهُ فَأَقْبَلْتُ أَمْشِي حَتَّى جِئْتُهُ فَطَأْطَأْتُ رَأْسِي أَنْظُرُ فِي وَجْهِهِ فَرَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ: " مَا لَكَ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ؟ " فَقُلْتُ: لَمَّا أَطَلْتَ السُّجُودَ يَا رَسُولَ اللهِ، خَشِيتُ أَنْ يَكُونَ اللهُ قَدْ تَوَفَّى نَفْسَكَ، فَجِئْتُ أَنْظُرُ فَقَالَ: " إِنِّي لَمَّا رَأَيْتَنِي دَخَلْتُ النَّخْلَ لَقِيتُ جَبْرَائِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَقَالَ: أُبَشِّرُكَ أَنَّ اللهَ تَعَالَى يَقُولُ: مَنْ سَلَّمَ عَلَيْكَ سَلَّمْتُ عَلَيْهِ وَمَنْ صَلَّى عَلَيْكَ صَلَّيْتُ عَلَيْهِ ".سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں مسجد میں داخل ہوا تو میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ مسجد سے باہر نکل رہے ہیں تو میں آپ ﷺ کے پیچھے چلنے لگا۔ رسول اللہ ﷺ کو میرا پتا نہ چلا حتیٰ کہ آپ ﷺ کھجوروں کے باغ میں داخل ہو گئے۔ آپ ﷺ نے قبلہ رخ ہو کر سجدہ کیا اور بہت لمبا سجدہ کیا اور میں آپ ﷺ کے پیچھے کھڑا تھا، حتیٰ کہ میں نے سمجھا شاید اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی روح قبض کر لی ہو۔ میں چلتا ہوا آپ کے پاس آ گیا، میں نے اپنے سر کو جھکایا اور آپ ﷺ کے چہرے کی طرف دیکھنے لگا۔ آپ ﷺ نے اپنا سر اٹھایا اور فرمایا: ”اے عبد الرحمن! تمہیں کیا ہوا ہے؟“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ نے جب سجدے کو لمبا کیا تو مجھے خطرہ لاحق ہوا کہ کہیں اللہ نے آپ ﷺ کو فوت نہ کر دیا ہو تو میں دیکھنے آیا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تو نے مجھے باغ میں داخل ہوتے دیکھا اس وقت میں جبرائیل علیہ السلام سے ملا، انہوں نے کہا: میں آپ ﷺ کو خوشخبری سناتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: جو آپ ﷺ پر سلام بھیجتا ہے میں اس پر سلامتی بھیجتا ہوں اور جو آپ ﷺ پر درود پڑھتا ہے میں اس پر رحمت بھیجتا ہوں۔“