وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ، عَنِ ابْنِ عُثْمَانَ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَهُوَ يَحْيَى بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَكَّةَ نُرِيدُ الْمَدِينَةَ، فَلَمَّا كَانَ قَرِيبًا مِنْ عَزْوَرَ نَزَلَ، ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ فَدَعَا اللهَ سَاعَةً، ثُمَّ خَرَّ سَاجِدًا فَمَكَثَ طَوِيلًا، ثُمَّ قَامَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ سَاعَةً، ثُمَّ خَرَّ سَاجِدًا، ذَكَرَهُ أَحْمَدُ ثَلَاثًا قَالَ: " إِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي وَشَفَعْتُ لِأُمَّتِي فَأَعْطَانِي ثُلُثَ أُمَّتِي فَخَرَرْتُ لِرَبِّي سَاجِدًا شُكْرًا، ثُمَّ رَفَعْتُ رَأْسِي فَسَأَلْتُ رَبِّي لِأُمَّتِي فَأَعْطَانِي ثُلُثَ أُمَّتِي فَخَرَرْتُ سَاجِدًا لِرَبِّي شُكْرًا، ثُمَّ قُمْتُ فَسَأَلْتُ رَبِّي لِأُمَّتِي فَأَعْطَانِي الثُّلُثَ الْآخَرَ فَخَرَرْتُ سَاجِدًا لِرَبِّي عَزَّ وَجَلَّ " قَالَ: أَبُو دَاوُدَ رَحِمَهُ اللهُ أَشْعَثُ بْنُ إِسْحَاقَ أَسْقَطَهُ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ حِينَ حَدَّثَنَا بِهِ، فَحَدَّثَنِي بِهِ، عَنْهُ مُوسَى بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ.عامر بن سعد رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مکہ سے مدینہ کو جا رہے تھے۔ جب آپ عزور مقام پر پہنچے تو سواری سے نیچے اترے اور اپنے ہاتھوں کو اٹھا کر بارگاہِ الٰہی میں کچھ دیر دعا و مناجات کی۔ پھر سجدے میں گر پڑے اور کافی دیر تک سجدے میں رہے، پھر کھڑے ہو کر اپنے ہاتھ کچھ دیر کے لیے اٹھائے۔ اس کے بعد پھر سجدہ ریز ہو گئے۔ احمد نے اس کو تین بار ذکر کیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے اپنے رب سے سوال کیا ہے اور اپنی امت کے لیے سفارش کی ہے تو اللہ نے ایک تہائی امت کے حق میں سفارش قبول کی، میں پھر اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہو گیا، جب میں نے سر اٹھایا اور اللہ سے اپنی امت کے لیے شفاعت کی درخواست کی تو اللہ نے پھر ایک تہائی امت دے دی۔ میں پھر اپنے رب کے حضور سجدے میں گر گیا۔ پھر میں کھڑا ہوا اور اپنے رب سے اپنی امت کی خاطر سوال کیا تو اللہ نے مجھے ایک تہائی اور عطا فرما دیا، میں اپنے رب کے حضور شکر کرتے ہوئے سجدے میں گر گیا۔“