السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ما يستدل به على أنه لا يجوز أن يكون حديث ابن مسعود في تحريم الكلام ناسخا لحديث أبي هريرة وغيره في كلام الناسي وذلك لتقدم حديث عبد الله وتأخر حديث أب باب: اس بات کے استدلال کا بیان کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی کلام کی حرمت والی حدیث کا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ وغیرہ کی بھول کر کلام کرنے والی حدیث کے لیے ناسخ ہونا جائز نہیں، اور یہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث کے مقدم ہونے اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کے مؤخر ہونے کی وجہ سے ہے
وَاحْتَجَّ بِمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ الزَّاهِدُ ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ بَحْرِ بْنِ بَرِّيٍّ، ثنا أَبِي، ثنا مَعْدِيُّ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنِي شُعَيْثُ بْنُ مُطَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ - وَمُطَيْرٌ، حَاضِرٌ فَصَدَّقَهُ مُطَيْرٌ - قَالَ شُعَيْثٌ: يَا أَبَتَاهُ أَخْبَرْتَنِي أَنَّ ذَا الْيَدَيْنِ لَقِيَكَ بِذِي خَشَبٍ فَأَخْبَرَكَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِمْ إِحْدَى صَلَاتِي الْعَشِيِّ وَهِيَ الْعَصْرُ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ فَسَلَّمَ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَتْبَعَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَخَرَجَ سَرَعَانُ النَّاسِ فَلَحِقَهُ ذُو الْيَدَيْنِ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ أَقَصُرَتِ الصَّلَاةُ أَوْ نَسِيتَ؟ قَالَ: " مَا قَصُرَتِ الصَّلَاةُ وَلَا نَسِيتُ " ثُمَّ أَقْبَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فَقَالَ: " مَا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ؟ " فَقَالَا: صَدَقَ يَا رَسُولَ اللهِ، فَرَجَعَ وَثَارَ النَّاسُ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ ".شعیث اپنے والد مطیر سے کہتے ہیں: اے والد محترم! آپ نے مجھے بتایا تھا کہ ذوالیدین رضی اللہ عنہ آپ کو ذی حشب مقام پر ملے تھے اور انہوں نے آپ کو خبر دی تھی کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں زوالِ آفتاب کے بعد والی نمازوں میں سے ایک نماز پڑھائی اور وہ عصر کی نماز تھی اور آپ ﷺ نے دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا۔ پھر رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے تو ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما بھی ان کے پیچھے چل پڑے۔ جلدی کرنے والے لوگ نکل گئے تو ذوالیدین، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہم رسول اللہ ﷺ کو جا ملے۔ ذوالیدین رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا نماز کم ہو گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نہ نماز کم ہوئی اور نہ ہی میں بھولا ہوں۔“ پھر رسول اللہ ﷺ نے ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”ذوالیدین کیا کہہ رہا ہے؟“ ان دونوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ سچ کہہ رہا ہے۔ آپ ﷺ واپس پلٹے اور لوگ پھیل چکے تھے، رسول اللہ ﷺ نے دو رکعتیں پڑھائیں پھر سہو کے دو سجدے کیے۔