السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ما يستدل به على أنه لا يجوز أن يكون حديث ابن مسعود في تحريم الكلام ناسخا لحديث أبي هريرة وغيره في كلام الناسي وذلك لتقدم حديث عبد الله وتأخر حديث أب باب: اس بات کے استدلال کا بیان کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی کلام کی حرمت والی حدیث کا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ وغیرہ کی بھول کر کلام کرنے والی حدیث کے لیے ناسخ ہونا جائز نہیں، اور یہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث کے مقدم ہونے اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کے مؤخر ہونے کی وجہ سے ہے
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا أَبُو عُلَاثَةَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ قَالَ: وَمِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذُو الشِّمَالَيْنِ ابْنُ عَبْدِ عَمْرِو بْنِ نَضْلَةَ بْنِ غَبْشَانَ، مِنْ خُزَاعَةَ قَالَ: " وَاسْتُشْهِدَ ⦗٥١٤⦘ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَوْمَ بَدْرٍ مِنْ بَنِي زُهْرَةَ بْنِ كِلَابٍ رَجُلَانِ: عُمَيْرُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ، وَذُو الشِّمَالَيْنِ ابْنُ عَبْدِ عَمْرِو بْنِ نَضْلَةَ حَلِيفٌ لَهُمْ مِنْ خُزَاعَةَ مِنْ بَنِي غَبْشَانَ " وَكَذَلِكَ قَالَهُ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ فِي مَغَازِيهِ وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ قَالَ مُحَمَّدٌ: لَا عَقِبَ لَهُ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: أَمَّا ذُو الْيَدَيْنِ الَّذِي أَخْبَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَهْوِهِ فَإِنَّهُ بَقِيَ بَعْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَكَذَا ذَكَرَهُ شَيْخُنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ.(ا) عروہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جو بدر میں شریک ہوئے تھے ان میں ذو الشمالین عبد عمرو بن نضلہ بن غبشان رضی اللہ عنہ قبیلہ بنو خزاعہ سے بھی تھے اور بدر کے روز جو مسلمان شہید ہوئے ان میں بنو زہرہ بن کلاب کے بھی دو مرد شہید ہوئے، ان میں سے ایک عمیر بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اور دوسرے ذو الشمالین بن عبد عمرو بن نضلہ رضی اللہ عنہ تھے جو خزاعہ کے بنو غبشان میں سے تھے
(ب) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: رہے وہ ذوالیدین رضی اللہ عنہ جنہوں نے نبی ﷺ کو آپ کے بھولنے کے بارے میں بتایا تھا تو یہ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد بھی زندہ رہے، ہمارے شیخ ابو عبداللہ الحافظ رحمہ اللہ نے اسی طرح ذکر کیا اور دلیل بھی دی ہے۔