السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الكلام في الصلاة على وجه السهو باب: نماز میں بھول کر کلام کرنے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ أَبَا بَكْرِ بْنَ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الرَّكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، فَقَالَ ذُو الشِّمَالَيْنِ ابْنُ عَبْدٍ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَقَصُرَتِ الصَّلَاةُ أَمْ نَسِيتَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَمْ تَقْصُرِ الصَّلَاةُ وَلَمْ أَنَسَ " فَقَالَ ذُو الشِّمَالَيْنِ: قَدْ كَانَ بَعْضُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللهِ، فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْقَوْمِ، فَقَالَ: " أَصَدَقَ ذُو الشِّمَالَيْنِ؟ " فَقَالُوا: نَعَمْ، فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَى مَا بَقِيَ مِنَ الصَّلَاةِ وَلَمْ يَسْجُدِ السَّجْدَتَيْنِ اللَّتَيْنِ تُسْجَدَانِ إِذَا شَكَّ الرَّجُلُ فِي صَلَاتِهِ حِينَ لَقَاهُ النَّاسُ " قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: أَخْبَرَنِي هَذَا الْخَبَرَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ وَعُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ وَهَذَا حَدِيثٌ مُخْتَلَفٌ فِيهِ عَلَى الزُّهْرِيِّ فَرَوَاهُ صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ هَكَذَا وَهُوَ أَصَحُّ الرِّوَايَاتِ فِيمَا نَرَى، حَدِيثُهُ عَنِ ابْنِ أَبِي حَثْمَةَ مُرْسَلٌ، وَحَدِيثُهُ عَنِ الْبَاقِينَ مَوْصُولٌ، وَأَرْسَلَهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنْهُ، عَنِ ابْنِ أَبِي حَثْمَةَ وَابْنِ الْمُسَيِّبِ وَأَبِي سَلَمَةَ وَأَسْنَدَهُ يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ عَنْهُ عَنْ جَمَاعَتِهِمْ دُونَ رِوَايَتِهِ، عَنِ ابْنِ أَبِي حَثْمَةَ وَأَسْنَدَهُ مَعْمَرٌ عَنْهُ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ وَأَبِي بَكْرِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ.ایک دوسری سند سے یہ حدیث منقول ہے، اس میں ابوبکر بن سلیمان بن ابی حثمہ بیان کرتے ہیں کہ انہیں یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دو رکعتیں پڑھا کر سلام پھیر دیا تو ذوالشمالین بن عبد رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا نماز کم ہو گئی ہے یا آپ بھولے ہیں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نہ نماز کم ہوئی ہے اور نہ میں بھولا ہوں۔“ ذوالشمالین رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: کچھ نہ کچھ ہوا ہے۔ رسول اللہ ﷺ لوگوں کی طرف مڑے اور پوچھا: ”کیا ذوالشمالین صحیح کہہ رہا ہے؟“ تو انہوں نے کہا: جی ہاں۔ رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے اور باقی نماز مکمل کی اور دو سجدے نہیں کیے جو اس وقت کیے جاتے ہیں جب نماز میں شک پڑ جائے۔
ابن شہاب کہتے ہیں: مجھے یہ خبر سعید بن مسیب نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کی، نیز مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمن، ابوبکر بن عبدالرحمن بن حارث اور عبیداللہ بن عبداللہ نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے واسطے سے رسول اللہ ﷺ سے اسی طرح بیان کیا۔
اس حدیث میں زہری پر اختلاف ہے۔ صالح بن کیسان نے اسے اسی طرح روایت کیا ہے اور ہمارے خیال میں یہ سب سے صحیح روایت ہے؛ ان کی ابن ابی حثمہ سے روایت مرسل ہے اور باقیوں سے موصول ہے۔ مالک بن انس نے اسے زہری سے ابن ابی حثمہ، ابن مسیب اور ابوسلمہ کے واسطے سے مرسل بیان کیا ہے، یونس بن یزید نے اسے زہری سے ان سب کے واسطے سے متصل بیان کیا ہے سوائے ابن ابی حثمہ کی روایت کے، اور معمر نے اسے زہری سے ابوسلمہ اور ابوبکر بن سلیمان بن ابی حثمہ کے واسطے سے متصل بیان کیا ہے۔