السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من سها خلف الإمام دونه لم يسجد للسهو باب: اس شخص کا بیان جو امام کے پیچھے بھول گیا، جبکہ امام نہیں بھولا، تو وہ سجدہ سہو نہیں کرے گا
قَدْ مَضَى حَدِيثُ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ وَكَلَامُهُ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاهِلًا بِتَحْرِيمِهِ، ثُمَّ لَمْ يَأْمُرْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسُجُودِ السَّهْوِ، وَرُوِيَ فِي ذَلِكَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَهُوَ قَوْلُ الشَّعْبِيِّ وَالنَّخَعِيِّ وَالزُّهْرِيِّ وَغَيْرِهِمْ، وَقَدْ رُوِيَ فِيهِ حَدِيثٌ ضَعِيفٌ.سیدنا معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ کی حدیث گزر چکی ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کے پیچھے (نماز میں) کلام کے حرام ہونے سے ناواقفیت کی بنا پر کلام کیا تھا، پھر بھی نبی کریم ﷺ نے انہیں سجدہ سہو کا حکم نہیں دیا۔
اور اس بارے میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہے، اور یہی امام شعبی، امام نخعی، امام زہری اور دیگر ائمہ رحمہم اللہ کا قول ہے، اور اس باب میں ایک ضعیف حدیث بھی مروی ہے۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ رُسْتَةَ، ثنا ابْنُ كَاسِبٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ أَبِي الْحُسَيْنِ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: جَاءُ جُبَيْرُ بْنُ مُطْعِمٍ إِلَى ابْنِ عُمَرَ، فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ كَيْفَ قَالَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرُ فِي الْإِمَامِ يَؤُمُّ الْقَوْمَ؟ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: قَالَ عُمَرُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْإِمَامَ يَكْفِي مَنْ وَرَاءَهُ، فَإِنْ سَهَا الْإِمَامُ فَعَلَيْهِ سَجْدَتَا السَّهْوِ وَعَلَى مَنْ وَرَاءَهُ أَنْ يَسْجُدُوا مَعَهُ وَإِنْ سَهَا أَحَدٌ مِمَّنْ خَلْفَهُ فَلَيْسَ عَلَيْهِ أَنْ يَسْجُدَ، وَالْإِمَامُ يَكْفِيهِ " وَرَوَى خَارِجَةُ بْنُ مُصْعَبٍ، عَنْ أَبِي الْحُسَيْنِ الْمَدِينِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ وَأَبُو الْحُسَيْنِ هَذَا مَجْهُولٌ وَالْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ ضَعِيفٌ، وَاللهُ أَعْلَمُ.سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ، ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آئے اور کہا: اے ابوعبدالرحمن! اس شخص کے بارے میں جو لوگوں کو امامت کروایا کرتا تھا، عمر رضی اللہ عنہ نے کیا فرمایا تھا؟ تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”امام اپنے پیچھے والوں کو کفایت کر جاتا ہے۔“ اگر امام بھول جائے تو امام پر سہو کے سجدے ضروری ہیں اور اس کے مقتدی بھی اس کے ساتھ سجدہ کریں گے اور اگر مقتدیوں میں سے کوئی بھول جائے تو اس پر سجدہ سہو نہیں ہے اور امام اس کو کافی ہو جائے گا۔