السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من سها خلف الإمام دونه لم يسجد للسهو باب: اس شخص کا بیان جو امام کے پیچھے بھول گیا، جبکہ امام نہیں بھولا، تو وہ سجدہ سہو نہیں کرے گا
حدیث نمبر: 3885
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْبَغْدَادِيُّ أنبأ عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، وَعِيسَى بْنُ مِينَاءَ قَالَا: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْفُقَهَاءِ، مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ كَانُوا يَقُولُونَ: سُتْرَةُ الْإِمَامِ سُتْرَةٌ لِمَنْ خَلْفَهُ قَلُّوا أَوْ كَثُرُوا وَهُوَ يَحْمِلُ أَوْهَامَهُمْ ".حافظ ثناء اللہ
ابن ابی اویس اور عیسیٰ بن میناء دونوں بیان کرتے ہیں کہ ہمیں عبدالرحمن بن ابی الزناد رحمہ اللہ نے اپنے والد کے واسطے سے بیان کیا اور وہ اہل مدینہ کے فقہاء سے روایت کرتے ہیں کہ امام کا سترہ ہی اس کے مقتدیوں کا سترہ ہے، چاہے وہ کم ہوں یا زیادہ اور وہ ان کا بوجھ اٹھائے گا۔