أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْخَوْلَانِيُّ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ: أَخْبَرَكَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ الصُّنَابِحِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا تَوَضَّأَ الْعَبْدُ فَمَضْمَضَ خَرَجَتِ الْخَطَايَا مِنْ فِيهِ، فَإِذَا اسْتَنْثَرَ خَرَجَتِ الْخَطَايَا مِنْ أَنْفِهِ، فَإِذَا غَسَلَ وَجْهَهُ خَرَجَتِ الْخَطَايَا مِنْ وَجْهِهِ حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ أَشْفَارِ عَيْنَيْهِ، فَإِذَا غَسَلَ يَدَيْهِ خَرَجَتِ الْخَطَايَا مَنْ يدَيْهِ حَتَّى تَخْرُجَ الْخَطَايَا مِنْ تَحْتِ أَظْفَارِ يَدَيْهِ، فَإِذَا مَسَحَ بِرَأْسِهِ خَرَجَتِ الْخَطَايَا مِنْ رَأْسِهِ حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ أُذُنَيْهِ، فَإِذَا غَسَلَ رِجْلَيْهِ خَرَجَتِ الْخَطَايَا مِنْ رِجْلَيْهِ حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ أَظْفَارِ رِجْلَيْهِ، ثُمَّ كَانَ مَشْيُهُ إِلَى الْمَسْجِدِ وَصَلَاتُهُ نَافِلَةً لَهُ ". أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ الْعَبَّاسَ بْنَ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ يَقُولُ: يَرْوِي عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ الصُّنَابِحِيِّ وَيُقَالُ: أَبُو عَبْدِ اللهِ، وَالصُّنَابِحِيُّ صَاحِبُ أَبِي بَكْرٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُسَيْلَةَ، وَالصُّنَابِحِيُّ صَاحِبُ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ يُقَالُ لَهُ: الصُّنَابِحُ بْنُ الْأَعْسَرِ، كَذَا قَالَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ. وَزَعَمَ الْبُخَارِيُّ أَنَّ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ وَهِمَ فِي هَذَا، وَإِنَّمَا هُوَ أَبُو عَبْدِ اللهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُسَيْلَةَ الصُّنَابِحِيُّ لَمْ يسْمَعْ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهَذَا الْحَدِيثُ مُرْسَلٌ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ هُوَ الَّذِي رَوَى عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَالصُّنَابِحُ بْنُ الْأَعْسَرِ صَاحِبُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: وَقَدْ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي التَّارِيخِ مِنْ حَدِيثِ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ هَكَذَا، ثُمَّ قَالَ: وَتَابَعَهُ ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَبِي غَسَّانَ، عَنْ زَيْدٍ. وَرَوَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى بْنِ الطَّبَّاعِ، عَنْ مَالِكٍ، فَقَالَ: عَنِ الصُّنَابِحِيِّ أَبِي عَبْدِ اللهِ، وَاحْتَجَّ بِآثَارٍ ذَكَرَهَا عَلَى أَنَّ الْأَمْرَ فِيهِ كَمَا قَالَ.سیدنا عبداللہ صنابحی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب بندہ وضو کرتا ہے اور کلی کرتا ہے تو اس کے منہ سے گناہ نکل جاتے ہیں اور جب ناک جھاڑتا ہے تو اس کے ناک سے گناہ نکل جاتے ہیں، جب اپنا چہرہ دھوتا ہے تو اس کے چہرے سے اس کے گناہ نکل جاتے ہیں حتیٰ کہ اس کی پلکوں کے نیچے سے بھی گناہ نکل جاتے ہیں، پھر جب اپنے ہاتھوں کو دھوتا ہے تو اس کے ہاتھوں کے گناہ نکل جاتے ہیں، پھر جب اپنے سر کا مسح کرتا ہے تو اس کے سر کے گناہ نکل جاتے ہیں حتیٰ کہ اس کے کانوں کے بھی گناہ نکل جاتے ہیں۔ پھر جب اپنے پاؤں دھوتا ہے تو اس کے پاؤں کے گناہ نکل جاتے ہیں حتیٰ کہ اس کے قدموں کے نیچے سے بھی گناہ نکل جاتے ہیں، پھر اس کا مسجد کی طرف چلنا اور نماز ادا کرنا اس کے لیے اجر و ثواب میں زیادتی کا باعث ہے۔“
(ب) یحییٰ بن معین رحمہ اللہ، عطاء بن یسار رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ عبداللہ صنابحی رضی اللہ عنہ جو ابو عبداللہ کے نام سے مشہور ہیں، ابوبکر عبدالرحمن بن عسیلہ رحمہ اللہ کے اور قیس بن ابو حازم رحمہ اللہ کے دوست ہیں اور وہ صنابح بن اعسر کے نام سے مشہور ہیں، یہ قول یحییٰ بن معین رحمہ اللہ کا ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مالک بن انس رحمہ اللہ کو ان کے نام کے متعلق وہم ہوا ہے وہ تو ابو عبداللہ کے نام سے مشہور ہیں۔ عبدالرحمن بن عسیلہ رحمہ اللہ کا نبی ﷺ سے سماع ثابت نہیں، یہ حدیث مرسل ہے، عبدالرحمن رحمہ اللہ نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اور صنابح بن اعسر رضی اللہ عنہ صحابیٔ رسول ہیں۔ امام احمد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے تاریخ میں مالک بن انس رحمہ اللہ سے اسی طرح روایت کیا ہے پھر فرمایا: ان کی متابعت ابن ابی مریم عن ابو غسان عن زید کی ہے۔ امام مالک رحمہ اللہ نے صنابحی ابو عبداللہ سے روایت بیان کی ہے، اس کے رواۃ اور آثار کو قابلِ حجت سمجھتا ہوں۔