أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنا أَبُو الْوَلِيدِ، نا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، ح. وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، وَأَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ، قَالَا: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شِيرَوَيْهِ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا شَدَّادُ بْنُ عَبْدِ اللهِ أَبُو عَمَّارٍ، وَيَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: قَالَ عَمْرُو بْنُ عَبَسَةَ السُّلَمِيُّ، فَذَكَرَ حَدِيثًا طَوِيلًا فِي قُدُومِهِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ، ثُمَّ قُدُومِهِ عَلَيْهِ بِالْمَدِينَةِ. قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا الْوضُوءُ؟ حَدِّثْنِي عَنْهُ، قَالَ: " مَا مِنْكُمْ مِنْ رَجُلٍ يَقْرَبُ وَضُوءَهُ، فَيُمَضْمِضُ وَيَسْتَنْشِقُ، فَيَنْثُرُ إِلَّا خَرَجَتْ خَطَايَا فِيهِ وَخَيَاشِيمِهِ مَعَ الْمَاءِ، ثُمَّ إِذَا غَسَلَ وَجْهَهُ كَمَا أَمَرَهُ اللهُ إِلَّا خَرَجَتْ خَطَايَا وَجْهِهِ مِنْ أَطْرَافِ لِحْيَتِهِ مَعَ الْمَاءِ، ثُمَّ يَغْسِلُ يَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ إِلَّا خَرَجَتْ خَطَايَا يَدَيْهِ مِنْ أَنَامِلِهِ مَعَ الْمَاءِ، ثُمَّ يَمْسَحُ رَأْسَهُ إِلَّا خَرَجَتْ خَطَايَا رَأْسِهِ مِنْ أَطْرَافِ شَعْرِهِ مَعَ الْمَاءِ، ثُمَّ يَغْسِلُ قَدَمَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ إِلَّا خَرَجَتْ خَطَايَا رِجْلَيْهِ مِنْ أَنَامِلِهِ مَعَ الْمَاءِ، فَإِنْ هُوَ قَامَ فَصَلَّى، فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَمَجَّدَهُ بِالَّذِي هُوَ لَهُ أَهْلٌ، وَفَرَّغَ قَلْبَهُ لِلَّهِ إِلَّا انْصَرَفَ مِنْ خَطِيئَتِهِ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ ". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ جَعْفَرٍ الْمُقْرِئِ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي الْوَلِيدِ عَنْ عِكْرِمَةَ: " ثُمَّ يَغْسِلُ قَدَمَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ كَمَا أَمَرَهُ اللهُ ". وَلَمْ يذْكُرْ فِي إِسْنَادِهِ يَحْيَى بْنَ أَبِي كَثِيرٍ، وَقَدْ رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الذُّهْلِيِّ، عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ، وَاحْتَجَّ بِهِ فِي وَجُوبِ غَسْلِ الْقَدَمَيْنِ.سیدنا عمرو بن عبسہ سلمی رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کے مکہ تشریف لے جانے اور مدینہ واپس تشریف لانے کے متعلق طویل حدیث ذکر کی، وہ فرماتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وضو کیا ہے؟ مجھے بتلائیے! آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب انسان پانی اپنے قریب کرتا ہے، اس کے بعد کلی کرتا ہے اور ناک میں پانی چڑھاتا ہے، پھر ناک جھاڑتا ہے تو پانی کے ساتھ اس کے منہ اور ناک کے بانسے سے گناہ نکل جاتے ہیں، پھر جب اپنا چہرہ دھوتا ہے جس طرح اللہ نے اس کو حکم دیا تو پانی کے ساتھ اس کے چہرے کے اطراف اور داڑھی سے گناہ نکل جاتے ہیں، پھر اپنے ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھوتا ہے تو پانی کے ساتھ اس کی انگلیوں کے گناہ نکل جاتے ہیں، پھر سر کا مسح کرتا ہے تو پانی کے ساتھ اس کے بالوں کے اطراف سے سر کے گناہ نکل جاتے ہیں، پھر ٹخنوں تک اپنے قدموں کو دھوتا ہے تو پانی کے ساتھ اس کے پاؤں کی انگلیوں سے گناہ نکل جاتے ہیں، پھر کھڑا ہو کر نماز ادا کرتا ہے، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرتا ہے اور اس کی ایسی بزرگی بیان کرتا ہے جس کا وہ اہل ہے اور اپنے دل کو اللہ کے لیے فارغ کر دیتا ہے تو وہ اپنے گناہوں سے اس طرح پاک صاف ہو جاتا ہے جیسے آج ہی اس کی والدہ نے اس کو جنم دیا ہے۔“
(ب) عکرمہ سے روایت ہے کہ پھر آپ نے اپنے قدموں کو ٹخنوں تک دھویا جس طرح اللہ نے اس کو حکم دیا۔ اس کی سند میں یحییٰ بن کثیر کا ذکر نہیں ہے۔
(ج) ابو ولید نے اس روایت سے پاؤں دھونے کے واجب ہونے کی دلیل لی ہے۔