السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من قال يسجدهما قبل السلام في الزيادة والنقصان ومن زعم أن السجود بعده صار منسوخا باب: اس قول کا بیان کہ زیادتی اور کمی دونوں صورتوں میں سلام سے پہلے سجدے کیے جائیں اور اس قول کا بیان جس کا یہ گمان ہے کہ سلام کے بعد سجدہ کرنا منسوخ ہو چکا ہے
حدیث نمبر: 3826
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو حَازِمٍ عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ الْحَافِظُ أنبأ أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ عُمَيْرِ بْنِ يُوسُفَ الدِّمَشْقِيُّ بِدِمَشْقَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ وَزِيرٍ يَعْنِي ابْنَ الْحَكَمِ السُّلَمِيَّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: وَتَأَوَّلَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ مَا أَخْبَرَنَا هُوَ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلَا يَدْرِي أَثْلَاثًا صَلَّى أَمْ أَرْبَعًا فَلْيُلْقِ الشَّكَّ وَلْيَبْنِ عَلَى الْيَقِينِ ثُمَّ لِيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ فَإِنْ كَانَتْ وِتْرًا أَشْفَعَهَا بِهَاتَيْنِ السَّجْدَتَيْنِ، وَإِنْ كَانَتْ شَفْعًا فَالسَّجْدَتَانِ تَرْغِيمٌ لِلشَّيْطَانِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو نماز میں شک ہو جائے اور اسے معلوم نہ ہو کہ اس نے کتنی نماز پڑھی ہے، تین رکعتیں یا چار، تو وہ شک کو چھوڑ کر یقین پر عمل کرے، پھر سلام پھیرنے سے پہلے سہو کے دو سجدے کر لے۔ اگر اس کی نماز طاق ہوئی تو یہ دو سجدے اس کو جفت بنا دیں گے اور اگر اس کی نماز جفت ہوئی تو وہ دو سجدے شیطان کی ذلت کا سبب بنیں گے۔“