السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من قال يسجدهما قبل السلام في الزيادة والنقصان ومن زعم أن السجود بعده صار منسوخا باب: اس قول کا بیان کہ زیادتی اور کمی دونوں صورتوں میں سلام سے پہلے سجدے کیے جائیں اور اس قول کا بیان جس کا یہ گمان ہے کہ سلام کے بعد سجدہ کرنا منسوخ ہو چکا ہے
حدیث نمبر: 3825
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلَمْ يَدْرِ كَمْ صَلَّى ثَلَاثًا أَوْ أَرْبَعًا فَلْيُصَلِّ رَكْعَةً وَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ قَبْلَ التَّسْلِيمِ فَإِنْ كَانَتِ الرَّكْعَةُ الَّتِي صَلَّى خَامِسَةً شَفَعَهَا بِهَاتَيْنِ وَإِنْ كَانَتْ رَابِعَةً فَالسَّجْدَتَانِ تَرْغِيمٌ لِلشَّيْطَانِ " ⦗٤٧٨⦘ وَقَدْ رُوِّينَاهُ مِنْ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ وَهِشَامِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مَوْصُولًا وَقَدْ رُوِيَ مِنْ حَدِيثِ مَالِكٍ أَيْضًا مَوْصُولًا.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عطاء بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو نماز کے بارے شک ہو اور اسے معلوم نہ ہو کہ اس نے کتنی نماز پڑھی ہے، تین رکعتیں یا چار، تو وہ ایک رکعت پڑھے اور سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھے بیٹھے دو سجدے کرے۔ اگر پڑھی جانے والی رکعت پانچویں ہوگی تو وہ ان دونوں سجدوں سے جفت بن جائے گی اور اگر پڑھی جانے والی رکعت چوتھی ہوگی تو یہ دو سجدے شیطان کے لیے باعثِ ذلت و رسوائی ہوں گے۔“