السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من قال يسجدهما قبل السلام في الزيادة والنقصان ومن زعم أن السجود بعده صار منسوخا باب: اس قول کا بیان کہ زیادتی اور کمی دونوں صورتوں میں سلام سے پہلے سجدے کیے جائیں اور اس قول کا بیان جس کا یہ گمان ہے کہ سلام کے بعد سجدہ کرنا منسوخ ہو چکا ہے
حدیث نمبر: 3827
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا أَبُو زُرْعَةَ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: جَلَسْتُ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ كَمَا مَضَى، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللهِ وَفِيهِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَشَكَّ فِي الْوَاحِدَةِ وَالثِّنْتَيْنِ فَلْيَجْعَلْهَا وَاحِدَةً، وَإِذَا شَكَّ فِي الِاثْنَتَيْنِ وَالثَّلَاثِ فَلْيَجْعَلْهَا اثْنَتَيْنِ، وَإِذَا شَكَّ فِي الثَّلَاثِ وَالْأَرْبَعِ فَلْيَجْعَلْهَا ثَلَاثًا حَتَّى يَكُونَ الْوَهْمُ فِي الزِّيَادَةِ وَيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ ثُمَّ يُسَلِّمُ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”جب تم میں سے کسی کو نماز میں شک ہو جائے تو اگر اس کو ایک اور دو میں شک ہے تو ایک شمار کرے اور اگر دو اور تین میں شک ہو تو انہیں دو شمار کرے اور اگر اسے تین اور چار میں شک ہے تو انہیں تین ہی سمجھے تاکہ گمان زیادہ میں ہو۔ پھر سلام سے پہلے دو سجدے کرے اور سلام پھیر دے۔“