السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من قال يسجدهما بعد التسليم على الإطلاق باب: اس قول کا بیان کہ مطلقا سلام کے بعد ہی دونوں سجدے کیے جائیں
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْجُشَمِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ قَالَ: صَلَّى بِنَا الْمُغِيرَةُ فَنَهَضَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ، قُلْنَا: سُبْحَانَ اللهِ قَالَ: سُبْحَانَ اللهِ، وَمَضَى فَلَمَّا أَتَمَّ صَلَاتَهُ وَسَلَّمَ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ كَمَا صَنَعْتُ " قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ ابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْمُغِيرَةِ يَرْفَعُهُ قَالَ الشَّيْخُ: وَحَدِيثُ ابْنِ بُحَيْنَةَ أَصَحُّ مِنْ هَذَا وَمَعَهُ رِوَايَةُ مُعَاوِيَةَ وَفِي حَدِيثِهِمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجَدَهُمَا قَبْلَ السَّلَامِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.(ا) زیاد بن علاقہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں نماز پڑھائی تو دو رکعتوں کے بعد سیدھے کھڑے ہو گئے، ہم نے «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“ کہا تو انہوں نے بھی «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“ کہا اور ایسے ہی نماز پڑھتے رہے، جب انہوں نے اپنی نماز مکمل کی تو سلام پھیرنے سے پہلے سہو کے دو سجدے کیے، پھر ہماری طرف مڑے اور فرمایا کہ اس طرح میں نے رسول اللہ ﷺ کو کرتے دیکھا ہے۔
(ب) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا ابن بحینہ رضی اللہ عنہ کی حدیث اس سے زیادہ صحیح ہے اور اس کے ساتھ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی روایت بھی، ان کی حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ نے سلام سے پہلے دو سجدے کیے تھے۔ «وَاللّٰهُ أَعْلَمُ» ”اور اللہ بہتر جانتا ہے“۔