السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من شك في صلاته فلم يدر صلى ثلاثا أو أربعا باب: اس شخص کا بیان جسے اپنی نماز میں شک ہو جائے اور اسے معلوم نہ ہو کہ اس نے تین رکعتیں پڑھی ہیں یا چار
حدیث نمبر: 3808
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، فِي الْفَوَائِدِ الْكَبِيرِ لِأَبِي الْعَبَّاسِ ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ أنبأ جَعْفَرٌ أنبأ سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلَمْ يَدْرِ اثْنَتَيْنِ صَلَّى أَوْ ثَلَاثًا فَلْيُلْقِ الشَّكَّ وَلْيَبْنِ عَلَى الْيَقِينِ " جَعْفَرٌ هَذَا هُوَ ابْنُ عَوْفٍ، وَكَذَا كَانَ فِي الْأَصْلِ سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَرُوبَةَ، وَاللهُ أَعْلَمُ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی شخص کو اپنی نماز کے متعلق شک پڑ جائے اور اسے معلوم نہ ہو کہ دو پڑھی ہیں یا تین، تو وہ شک کو چھوڑ کر یقین پر عمل کرے۔“