السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من شك في صلاته فلم يدر صلى ثلاثا أو أربعا باب: اس شخص کا بیان جسے اپنی نماز میں شک ہو جائے اور اسے معلوم نہ ہو کہ اس نے تین رکعتیں پڑھی ہیں یا چار
حدیث نمبر: 3807
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ الْمَكِّيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كُنْتُ أُذَاكِرُ عُمَرَ شَيْئًا مِنَ الصَّلَاةِ فَأَتَى عَلَيْنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: أَلَا أُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قُلْنَا: بَلَى قَالَ: أَشْهَدُ شَهَادَةَ اللهِ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فِي شَكٍّ مِنَ النُّقْصَانِ فِي صَلَاتِهِ فَلْيُصَلِّ حَتَّى يَكُونَ فِي شَكٍّ مِنَ الزِّيَادَةِ " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ الْمَكِّيِّ وَرَوَاهُ ⦗٤٧١⦘ أَيْضًا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ بَحْرِ بْنِ كَثِيرٍ السَّقَّاءِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ وَكَذَلِكَ رُوِيَ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ہم سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس نماز کے کسی مسئلہ کے بارے میں بحث کر رہے تھے کہ اس دوران سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ ہمارے پاس تشریف لائے اور انہوں نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں ایک حدیث نہ بیان کروں جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے؟“ ہم نے کہا: کیوں نہیں! ضرور سنائیے۔ انہوں نے فرمایا: میں گواہی دیتا ہوں کہ یقیناً میں نے یہ حدیث رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے کہ ”جب تم میں سے کسی کو نماز میں کسی کمی کا شک ہوجائے تو وہ نماز کو اس ترتیب پر پڑھے کہ شک زیادہ میں ہوجائے۔“