السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من شك في صلاته فلم يدر صلى ثلاثا أو أربعا باب: اس شخص کا بیان جسے اپنی نماز میں شک ہو جائے اور اسے معلوم نہ ہو کہ اس نے تین رکعتیں پڑھی ہیں یا چار
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِيُّ، وَسَعِيدُ بْنُ عُثْمَانَ التَّنُوخِيُّ فَرَّقَهُمَا فِي مَوْضِعَيْنِ قَالَا: ثنا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: جَلَسْتُ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ هَلْ سَمِعْتَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّجُلِ إِذَا نَسِيَ صَلَاتَهَ فَلَمْ يَدْرِ أَزَادَ أَمْ نَقَصَ مَا أَمَرَ بِهِ فِيهِ؟ قُلْتُ: وَمَا سَمِعْتَ أَنْتَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينِ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا فِي ذَلِكَ؟ قَالَ: لَا وَاللهِ مَا سَمِعْتُ مِنْهُ فِيهِ شَيْئًا وَلَا سَأَلْتُ عَنْهُ، إِذْ جَاءَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، فَقَالَ: فِيمَا أَنْتُمَا؟ فَأَخْبَرَهُ عُمَرُ، فَقَالَ: سَأَلْتُ هَذَا الْفَتَى عَنْ كَذَا وَكَذَا فَلَمْ أَجِدْ عِنْدَهُ عِلْمًا قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: لَكِنْ عِنْدِي لَقَدْ سَمِعْتُ ذَلِكَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ عُمَرُ: فَأَنْتَ عِنْدَنَا الْعَدْلُ الرِّضَا فَمَاذَا سَمِعْتَ؟ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَشَكَّ فِي الْوَاحِدَةِ وَالِثْنَتَيْنِ فَلْيَجْعَلْهُمَا وَاحِدَةً، وَإِذَا شَكَّ فِي الِاثْنَتَيْنِ وَالثَّلَاثِ فَلْيَجْعَلْهَا اثْنَتَيْنِ وَإِذَا شَكَّ فِي الثَّلَاثِ وَالْأَرْبَعِ فَلْيَجْعَلْهَا ثَلَاثًا حَتَّى يَكُونَ الْوَهْمُ فِي الزِّيَادَةِ يَسْجُدُ سَجْدَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ ثُمَّ يُسَلِّمُ " ⦗٤٧٠⦘ وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ الْجَمَاعَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ وَرَوَاهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ابْنِ عُلَيَّةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ.سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا تو انہوں نے کہا: اے ابن عباس! کیا آپ نے نبی ﷺ سے اس طرح کا کوئی مسئلہ سنا ہے اس شخص کے بارے میں جو اپنی نماز میں بھول جائے، اسے پتہ نہ چلے کہ اس نے نماز میں کوئی زیادتی کی ہے یا کمی کی ہے جس کا اسے حکم نہیں دیا گیا تھا؟ میں نے کہا: اے امیر المومنین! کیا آپ نے بھی رسول اللہ ﷺ سے اس بارے میں کچھ نہیں سنا؟ انہوں نے فرمایا: نہیں! اللہ کی قسم! میں نے آپ ﷺ سے اس بارے میں کچھ نہیں سنا اور نہ ہی آپ ﷺ سے اس بارے میں میں نے پوچھا ہے۔ اچانک سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو انہوں نے فرمایا: تم کس مسئلہ میں پھنسے ہوئے ہو؟ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کے سامنے وہ بات رکھ دی کہ میں نے اس نوجوان سے فلاں فلاں مسئلہ کے بارے میں پوچھا لیکن مجھے اس کے پاس سے اس بارے میں کچھ معلوم نہیں ہوا۔ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لیکن میرے پاس اس بارے میں علم ہے، میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس بارے میں سنا ہوا ہے۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ تو ہمارے نزدیک منصف اور پسندیدہ شخصیت ہیں تو آپ نے نبی ﷺ سے کیا سنا ہے؟ تو سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”جب تم میں سے کسی کو نماز میں شک ہو جائے تو اگر اس کو ایک اور دو رکعتوں میں شک ہو جائے تو ایک کو شمار کرے اور جب اسے دو یا تین میں شک ہو جائے تو ان کو دو سمجھے اور اگر تین اور چار (رکعتوں) میں شک پڑ جائے تو انہیں تین بنا دے، جب وہم زیادہ میں ہو۔ سلام سے پہلے دو سجدے کرلے پھر سلام پھیر دے۔“