السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من شك في صلاته فلم يدر صلى ثلاثا أو أربعا باب: اس شخص کا بیان جسے اپنی نماز میں شک ہو جائے اور اسے معلوم نہ ہو کہ اس نے تین رکعتیں پڑھی ہیں یا چار
حدیث نمبر: 3803
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ إِمْلَاءً ثنا الشَّيْخُ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ أنبأ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، ثنا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا لَمْ يَدْرِ أَحَدُكُمْ ثَلَاثًا صَلَّى أَمْ أَرْبَعًا؟ فَلْيُتِمَّ وَيُصَلِّي رَكْعَةً ثُمَّ يَسْجُدْ بَعْدَ ذَلِكَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ وَهُوَ جَالِسٌ، فَإِنْ كَانَتْ صَلَاتُهُ خَمْسًا شَفَعَتْ صَلَاتَهُ، وَإِنْ كَانَتْ أَرْبَعًا كَانَتَا تَرْغِيمًا لِلشَّيْطَانِ " وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ وَفُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ وَمُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ مَوْصُولًا.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو یہ پتا نہ چلے کہ اس نے تین رکعتیں ادا کی ہیں یا چار تو اس کو چاہیے کہ وہ نماز مکمل کرے اور ایک رکعت مزید پڑھ لے۔ پھر اس کے بعد بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کر لے۔ اگر اس کی پانچ رکعتیں ہو گئیں تو ان سجدوں کی وجہ سے اس کی نماز جفت ہو جائے گی اور اگر اس کی چار رکعتیں ہو گئیں تو وہ دو سجدے شیطان کے لیے باعثِ ذلت و رسوائی ہوں گے۔“