السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من لم ير وجوب سجدة التلاوة باب: اس قول کا بیان جس نے سجدہ تلاوت کو واجب نہیں سمجھا
حدیث نمبر: 3757
وَفِي رِوَايَةِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا عَنْ سُجُودِ الْقُرْآنِ فَقَالَتْ: " حَقُّ اللهِ تُؤَدِّيهِ أَوْ تَطَوُّعٌ تَطَوَّعُهُ، وَمَا مِنْ مُسْلِمٍ يَسْجُدُ لِلَّهِ سَجْدَةً إِلَّا رَفَعَهُ اللهُ بِهَا دَرَجَةً أَوْ حَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً أَوْ جَمَعَهُمَا لَهُ كِلْتَيْهِمَا " أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ سُفْيَانَ، فَذَكَرَهُ.حافظ ثناء اللہ
سفیان ثوری رحمہ اللہ کی روایت میں ہے کہ ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے قرآن کے سجدوں کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: ”یہ اللہ کا حق ہے جسے تم ادا کرتے ہو یا ایک نفلی عبادت ہے جسے تم نفل کے طور پر کرتے ہو، اور جو بھی مسلمان اللہ کے لیے ایک سجدہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اس کا ایک درجہ بلند کر دیتا ہے یا اس کا کوئی گناہ مٹا دیتا ہے یا اس کے لیے دونوں چیزیں جمع کر دیتا ہے۔“