السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: استحباب السجود في الصلاة متى ما قرأ فيها آية السجدة باب: نماز میں جب بھی سجدے کی آیت پڑھی جائے تو سجدہ کرنے کے مستحب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 3758
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ الطَّيِّبِ الْبَلْخِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَخْبَرَنِي أَبُو يَعْلَى، ثنا عَمْرٌو النَّاقِدُ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ السَّبِيعِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيِّ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ الْعَتَمَةَ فَقَرَأَ إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ فَسَجَدَ فَقُلْتُ لَهُ: مَا هَذِهِ السَّجْدَةُ؟ فَقَالَ: سَجَدْتُ بِهَا مَعَ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَا أَزَالُ أَسْجُدُ بِهَا حَتَّى أَلْقَاهُ " قَالَ عِيسَى بْنُ يُونُسَ: الْعِشَاءَ، وَقَالَ: فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ أَوْ قُلْتُ: مَا هَذِهِ؟ قَالَ: كَذَا سَجَدَ بِهِ، فَذَكَرَهُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ مُعَاذٍ، عَنْ عَمْرٍو النَّاقِدِ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ كَمَا تَقَدَّمَ.حافظ ثناء اللہ
(ا) حضرت ابورافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ نمازِ عشاء پڑھی، آپ نے سورۃ الانشقاق کی تلاوت کی اور سجدہ کیا، میں نے کہا: یہ کون سا سجدہ ہے؟ انہوں نے فرمایا: میں نے یہ سجدہ ابوالقاسم ﷺ کے ساتھ کیا ہے اور میں ہمیشہ کرتا رہوں گا حتیٰ کہ آپ ﷺ سے جا ملوں۔
(ب) حضرت عیسیٰ بن یونس رحمہ اللہ کی روایت میں «العَتَمَةِ» کی جگہ «العِشَاءِ» کا لفظ ہے اور فرمایا: جب نماز سے سلام پھیرا تو کہا: اے ابوہریرہ! یہ کیا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: یہ سجدہ رسول اللہ ﷺ نے بھی کیا ہے۔