السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من لم ير إعادتها إذا كان قد صلاها في جماعة باب: اس شخص کے قول کا بیان جس نے جماعت کے ساتھ نماز پڑھ لینے کی صورت میں اسے دہرانے کو درست نہیں سمجھا
حدیث نمبر: 3653
وَفِيمَا مَضَى مِنَ الْأَخْبَارِ كَالدَّلَالَةِ عَلَى ذَلِكَ لِوُرُودِ الْأَمْرِ بِالْإِعَادَةِ عَلَى مَنْ صَلَّاهَا وَحْدَهُ.حافظ ثناء اللہ
اور جو احادیث گزر چکی ہیں ان میں اس بات کی دلیل موجود ہے، کیونکہ اکیلے نماز پڑھنے والے کو نماز دہرانے کا حکم وارد ہوا ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ الْبَزَّارُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى الْعَطَّارُ قَالَا: ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، زَادَ ⦗٤٣١⦘ ابْنُ مُكْرَمٍ: وَعَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، وَهَذَا حَدِيثُ يَزِيدَ ثنا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ مَوْلَى مَيْمُونَةَ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا تُصَلُّوا صَلَاةً فِي يَوْمٍ مَرَّتَيْنِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام سیدنا سلیمان رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”دن میں ایک ہی نماز کو دو مرتبہ نہ پڑھو۔“