السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من لم ير إعادتها إذا كان قد صلاها في جماعة باب: اس شخص کے قول کا بیان جس نے جماعت کے ساتھ نماز پڑھ لینے کی صورت میں اسے دہرانے کو درست نہیں سمجھا
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ قَالَا: أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ بُهْلُولٍ، ثنا أَبِي، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، أَخْبَرَنِي حُسَيْنُ بْنُ ذَكْوَانَ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ مَوْلَى مَيْمُونَةَ قَالَ: أَتَيْتُ عَلَى ابْنِ عُمَرَ ذَاتَ يَوْمٍ وَهُوَ جَالِسٌ بِالْبَلَاطِ وَالنَّاسُ فِي صَلَاةِ الْعَصْرِ فَقُلْتُ: أَبَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ، النَّاسُ فِي الصَّلَاةِ قَالَ: إِنِّي قَدْ صَلَّيْتُ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا صَلَاةَ مَكْتُوبَةً فِي يَوْمٍ مَرَّتَيْنِ " قَالَ عَلِيٌّ: تَفَرَّدَ بِهِ الْحُسَيْنُ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، وَاللهُ تَعَالَى أَعْلَمُ قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذَا إِنْ صَحَّ فَمَحْمُولٌ عَلَى أَنَّهُ قَدْ كَانَ صَلَّاهَا فِي جِمَاعَةٍ فَلَمْ يُعِدْهَا، وَقَوْلُهُ: " لَا صَلَاةَ مَكْتُوبَةً فِي يَوْمٍ مَرَّتَيْنِ " أَيْ: كِلْتَاهُمَا عَلَى وَجْهِ الْفَرْضِ، وَيَرْجِعُ ذَلِكَ عَلَى أَنَّ الْأَمْرَ بِإِعَادَتِهَا اخْتِيَارٌ، وَلَيْسَ بِحَتْمٍ وَاللهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.سیدتنا میمونہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام حضرت سلیمان رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ میں مدینہ کے قریب بلاط نامی مقام میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا، آپ بیٹھے ہوئے تھے اور لوگ عصر کی نماز پڑھ رہے تھے۔ میں نے عرض کیا: اے ابوعبدالرحمن! لوگ نماز پڑھ رہے ہیں اور آپ بیٹھے ہوئے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: میں نماز پڑھ چکا ہوں اور میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”ایک دن میں فرض نماز دو بار نہ پڑھو۔“
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ روایت اگر صحیح ہو تو اس کو اس پر محمول کیا جائے گا کہ اگر وہ نماز کو جماعت کے ساتھ ادا کر چکا ہو تو دوبارہ نہ پڑھے اور آپ ﷺ کا فرمان کہ ”ایک دن میں ایک فرض نماز دو بار نہ پڑھی جائے“ کا مطلب یہ ہوگا کہ ان دونوں کو فرض سمجھتے ہوئے نہ پڑھے اور اصل بات یہ ہے کہ نماز کے اعادہ کا حکم اختیاری ہے حتمی نہیں ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔