السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من أعادها وإن صلاها في جماعة باب: اس شخص کا بیان جس نے نماز دہرائی اگرچہ اس نے وہ جماعت کے ساتھ پڑھی تھی
حدیث نمبر: 3652
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ: حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ قَالَ: قَالَ أَنَسٌ: كَانَ أَبُو مُوسَى عَلَى جُنْدِ أَهْلِ الْبَصْرَةِ وَالنُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ عَلَى جُنْدِ أَهْلِ الْكُوفَةِ وَكُنْتُ بَيْنَهُمَا فَتَوَاعَدَا أَنْ يَلْتَقِيَا عِنْدِي غُدْوَةً فَصَلَّى أَحَدُهُمَا بِأَصْحَابِهِ، ثُمَّ جَاءَ فَصَلَّى مَعَنَا ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ اہل بصرہ کے لشکر پر نگران مقرر تھے اور سیدنا نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہما اہل کوفہ کے لشکر پر نگران تھے۔ میں ان دونوں کے درمیان تھا۔ ان دونوں نے وعدہ کیا کہ وہ صبح مجھ سے ملنے آئیں گے۔ پھر ان میں سے ایک نے اپنے مقتدیوں کو نماز پڑھائی، پھر ہمارے پاس آکر ہمارے ساتھ بھی نماز پڑھی۔