السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من أعادها وإن صلاها في جماعة باب: اس شخص کا بیان جس نے نماز دہرائی اگرچہ اس نے وہ جماعت کے ساتھ پڑھی تھی
رُوِّينَا فِي حَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الرَّجُلِ الَّذِي دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَقَدْ صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " أَلَا رَجُلٌ يَتَصَدَّقُ عَلَى هَذَا فَيُصَلِّيَ مَعَهُ " فَقَامَ رَجُلٌ فَصَلَّى مَعَهُ وَعَنِ الْحَسَنِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا فِي هَذَا الْخَبَرِ، فَقَامَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَصَلَّى مَعَهُ، وَقَدْ كَانَ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.ہمیں سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی حدیث سے اس شخص کے بارے میں روایت پہنچی ہے جو مسجد میں داخل ہوا جب رسول اللہ ﷺ نماز پڑھ چکے تھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا کوئی ایسا شخص ہے جو اس پر صدقہ کرے اور اس کے ساتھ نماز پڑھے؟“
تو ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے اس کے ساتھ نماز پڑھی۔
اور امام حسن بصری رحمہ اللہ سے اس خبر میں نبی کریم ﷺ سے مرسل روایت ہے کہ: ”پس سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے اس کے ساتھ نماز پڑھی، حالانکہ وہ اس سے پہلے نبی کریم ﷺ کے ساتھ نماز پڑھ چکے تھے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو الْفَضْلِ عَبْدُوسُ بْنُ الْحُسَيْنِ السِّمْسَارُ ثنا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، ثنا الْأَنْصَارِيُّ يَعْنِي مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ قَالَ: قَالَ أَنَسٌ: قَدِمْنَا مَعَ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ فَصَلَّى بِنَا الْغَدَاةَ بِالْمِرْبَدِ، ثُمَّ انْتَهَيْنَا إِلَى الْمَسْجِدِ فَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَصَلَّيْنَا مَعَ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ.سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے ساتھ آئے۔ انہوں نے مقام ”مربد“ پر ہمیں صبح کی نماز پڑھائی، پھر ہم مسجد میں پہنچے تو نماز کھڑی تھی، ہم نے سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ دوبارہ نماز پڑھی۔