السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من قال الثانية فريضة وفيه نظر باب: اس قول کا بیان کہ دوسری نماز فرض ہو گی اور اس میں نظر (اختلاف) ہے
حدیث نمبر: 3648
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ قِرَاءَةً عَلَيْهِ أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ قَالَ: سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ عَنِ الرَّجُلِ، يُصَلِّي فِي بَيْتِهِ ثُمَّ يُدْرِكُ الْجَمَاعَةَ؟ قَالَ: يُصَلِّيهَا مَعَهُمْ قَالَ: قُلْتُ فَبِأَيِّهِمَا يَحْتَسِبُ؟ قَالَ: بِالَّذِي صَلَّى مَعَ الْإِمَامِ، فَإِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حَدَّثَنَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " صَلَاةُ الرَّجُلِ فِي الْجَمْعِ تَزِيدُ عَلَى صَلَاتِهِ وَحْدَهُ خَمْسًا وَعِشْرِينَ صَلَاةً ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا داؤد بن ابی ہند رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے اس شخص کے بارے میں پوچھا جو اپنے گھر میں نماز پڑھ لیتا ہے، پھر جماعت کو بھی پا لیتا ہے تو انہوں نے فرمایا: وہ جماعت کے ساتھ بھی پڑھے۔ میں نے کہا: اس کو کون سی نماز کا بطورِ فرض ثواب ملے گا؟ انہوں نے فرمایا: جو اس نے باجماعت پڑھی ہوگی، کیونکہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں حدیث بیان کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جماعت کے ساتھ نماز (اجر و ثواب کے لحاظ سے) اکیلے کی نماز سے پچیس گنا زیادہ ہوتی ہے۔“