کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: اس قول کا بیان کہ دوسری نماز فرض ہو گی اور اس میں نظر (اختلاف) ہے
حدیث نمبر: 3647
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا قُتَيْبَةُ، ثنا مَعْنُ بْنُ عِيسَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ نُوحِ بْنِ صَعْصَعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: جِئْتُ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ فَجَلَسْتُ وَلَمْ أَدْخُلْ مَعَهُمْ فِي الصَّلَاةِ قَالَ: فَانْصَرَفَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَى يَزِيدَ جَالِسًا، فَقَالَ: " أَلَمْ تُسْلِمْ يَا يَزِيدُ؟ " قَالَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ، قَدْ أَسْلَمْتُ قَالَ: " وَمَا مَنَعَكَ أَنْ تَدْخُلَ مَعَ النَّاسِ فِي صَلَاتِهِمْ؟ " قَالَ: إِنِّي كُنْتُ صَلَّيْتُ فِي مَنْزِلِي وَأَنَا أَحْسَبُ أَنْ قَدْ صَلَّيْتُمْ، فَقَالَ: " إِذَا جِئْتَ إِلَى الصَّلَاةِ فَوَجَدْتَ النَّاسَ فَصَلِّ مَعَهُمْ وَإِنْ كُنْتَ قَدْ صَلَّيْتَ فَلْتَكُنْ لَكَ نَافِلَةً، وَهَذِهِ مَكْتُوبَةٌ " فَهَذَا مُوَافِقٌ لِمَا مَضَى فِي إِعَادَةِ الصَّلَاةِ فِي الْجَمَاعَةِ مُخَالِفٌ لَهُ فِي الْمَكْتُوبَةِ مِنْهُمَا وَمَا مَضَى أَكْثَرُ وَأَشْهُرُ فَهُوَ أَوْلَى وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) سیدنا یزید بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں جب آیا تو نبی ﷺ نماز پڑھ رہے تھے، میں بیٹھ گیا، آپ ﷺ کے ساتھ نماز میں شامل نہیں ہوا۔ جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو مجھے بیٹھا ہوا دیکھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یزید! کیا تم مسلمان نہیں ہو؟“ میں نے جواب دیا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! میں مسلمان ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم لوگوں کے ساتھ نماز میں شامل کیوں نہیں ہوئے؟“ میں نے عرض کیا: میں نے گھر میں نماز پڑھ لی تھی، میرا خیال تھا کہ آپ نماز پڑھ چکے ہوں گے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم مسجد میں آؤ اور لوگوں کو حالت نماز میں پاؤ تو ان کے ساتھ نماز پڑھ لیا کرو، اگرچہ تم نماز پڑھ چکے ہو۔ یہ دوسری نماز تمہارے لیے نفل بن جائے گی اور پہلی فرض۔“
(ب) یہ حدیث اس حدیث کے موافق ہے جو جماعت میں ملنے کی صورت میں نماز کے اعادہ کے بارے میں گزر چکی ہے۔ ان دونوں میں سے فرض نماز میں اس کی مخالف ہے جو اس بارے میں گزر چکی ہے وہ زیادہ مشہور اور راجح ہے۔ واللہ اعلم۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3647
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ اخرجه ابوداود 577»
حدیث نمبر: 3648
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ قِرَاءَةً عَلَيْهِ أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ قَالَ: سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ عَنِ الرَّجُلِ، يُصَلِّي فِي بَيْتِهِ ثُمَّ يُدْرِكُ الْجَمَاعَةَ؟ قَالَ: يُصَلِّيهَا مَعَهُمْ قَالَ: قُلْتُ فَبِأَيِّهِمَا يَحْتَسِبُ؟ قَالَ: بِالَّذِي صَلَّى مَعَ الْإِمَامِ، فَإِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حَدَّثَنَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " صَلَاةُ الرَّجُلِ فِي الْجَمْعِ تَزِيدُ عَلَى صَلَاتِهِ وَحْدَهُ خَمْسًا وَعِشْرِينَ صَلَاةً ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا داؤد بن ابی ہند رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے اس شخص کے بارے میں پوچھا جو اپنے گھر میں نماز پڑھ لیتا ہے، پھر جماعت کو بھی پا لیتا ہے تو انہوں نے فرمایا: وہ جماعت کے ساتھ بھی پڑھے۔ میں نے کہا: اس کو کون سی نماز کا بطورِ فرض ثواب ملے گا؟ انہوں نے فرمایا: جو اس نے باجماعت پڑھی ہوگی، کیونکہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں حدیث بیان کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جماعت کے ساتھ نماز (اجر و ثواب کے لحاظ سے) اکیلے کی نماز سے پچیس گنا زیادہ ہوتی ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3648
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه النسائي 486»