السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من قال ذلك إلى الله عز وجل يحتسب له بأيتهما شاء عن فرضه باب: اس قول کا بیان کہ یہ اللہ عزوجل کی مرضی پر موقوف ہے وہ ان میں سے جسے چاہے اس کے فرض کے طور پر شمار کر لے
حدیث نمبر: 3649
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، فَقَالَ: إِنِّي أُصَلِّي فِي بَيْتِي ثُمَّ أُدْرِكُ الصَّلَاةَ مَعَ الْإِمَامِ أَفَأُصَلِّي مَعَهُ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ: " نَعَمْ فَصَلِّ ⦗٤٣٠⦘ مَعَهُ " فَقَالَ الرَّجُلُ: فَأَيَّتُهُمَا أَجْعَلُ صَلَاتِي، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ: " وَذَلِكَ إِلَيْكَ؟ إِنَّمَا ذَلِكَ إِلَى اللهِ تَعَالَى يَجْعَلُ أَيَّتَهُمَا شَاءَ ".حافظ ثناء اللہ
حضرت نافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا: میں اپنے گھر میں نماز پڑھ لیتا ہوں، پھر جماعت کے ساتھ نماز ہو رہی ہوتی ہے تو کیا میں امام کے ساتھ نماز پڑھ لوں؟ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہاں، امام کے ساتھ پڑھ لو۔ اس نے کہا: ان میں سے کون سی نماز کو میں فرض نماز بناؤں؟ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: کیا یہ تیرے اختیار میں ہے؟ یہ تو اللہ کی طرف سے ہے جس کو چاہے فرض قرار دے۔