السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ما أدرك من صلاة الإمام فهو أول صلاته باب: جو نماز امام کے ساتھ پا لی جائے وہی اس کی پہلی نماز ہونے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيُّ ثنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ أَنَّ السُّنَّةَ إِذَا أَدْرَكَ الرَّجُلُ رَكْعَةً مِنْ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ مَعَ الْإِمَامِ أَنْ يَجْلِسَ مَعَ الْإِمَامِ فَإِذَا سَلَّمَ الْإِمَامُ قَامَ فَرَكَعَ الثَّانِيَةَ فَجَلَسَ فِيهَا وَتَشَهَّدَ، ثُمَّ قَامَ فَرَكَعَ الرَّكْعَةَ الثَّالِثَةَ فَتَشَهَّدَ فِيهَا، ثُمَّ سَلَّمَ، وَالصَّلَوَاتُ عَلَى هَذِهِ السُّنَّةِ فِيمَا يَجْلِسُ فِيهِ مِنْهُنَّ " قَالَ الزُّهْرِيُّ قَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ: " حَدِّثُونِي بِثَلَاثِ رَكَعَاتٍ يُتَشَهَّدُ فِيهِنَّ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَإِذَا سُئِلَ عَنْهَا قَالَ: تِلْكَ صَلَاةُ الْمَغْرِبِ يُسْبَقُ الرَّجُلُ مِنْهَا بِرَكْعَةٍ، ثُمَّ يُدْرِكُ رَكْعَتَيْنِ فَيَتَشَهَّدُ فِيهِمَا ".(ا) سیدنا سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سنت یہ ہے کہ آدمی جب امام کے ساتھ مغرب کی نماز میں ایک رکعت پا لے تو وہ امام کے ساتھ قعدہِ اخیرہ کرے، جب امام سلام پھیر لے تو وہ کھڑا ہو کر دوسری رکعت پڑھے اور تشہد میں بیٹھے، پھر کھڑا ہو کر تیسری رکعت پڑھے اور اس میں تشہد پڑھے اور پھر سلام پھیرے اور دیگر نمازیں بھی اسی طریقے پر ہیں جن میں بیٹھا جاتا ہے۔
(ب) امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے فرمایا: مجھے بتاؤ وہ کون سی نماز ہے، جس میں تین رکعتوں میں تین بار تشہد پڑھا جاتا ہے؟ جب ان سے اس بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: یہ مغرب کی نماز ہے کہ آدمی سے ایک رکعت چھوٹ جائے، پھر وہ امام کے ساتھ دوسری رکعتیں جو پائے گا ان میں تشہد پڑھے گا اور آخری تشہد بھی پڑھے گا۔