السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ما أدرك من صلاة الإمام فهو أول صلاته باب: جو نماز امام کے ساتھ پا لی جائے وہی اس کی پہلی نماز ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 3635
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ، ثنا مُوسَى بْنُ عَامِرٍ، ثنا الْوَلِيدُ قَالَ: وَأَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ أَنَّهُ فَاتَتْهُ رَكْعَةٌ مِنَ الْمَغْرِبِ، فَلَمَّا سَلَّمَ الْإِمَامُ قَامَ حَتَّى رَفَعَ صَوْتَهُ بِالْقِرَاءَةِ، فَكَأَنِّي أَسْمَعُ قِرَاءَتَهُ {فَأَنْذَرْتُكُمْ نَارًا تَلَظَّى} [الليل: ١٤].حافظ ثناء اللہ
حضرت عمرو بن دینار رحمہ اللہ، حضرت عبید بن عمیر رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ ان سے مغرب کی نماز کی ایک رکعت رہ گئی، جب امام نے سلام پھیرا تو وہ اپنی نماز مکمل کرنے کے لیے کھڑے ہوئے اور ان کی قراءت کی آواز بلند ہوئی۔ گویا میں ان کی قراءت کو سن رہا ہوں: ﴿فَأَنذَرْتُكُمْ نَارًا تَلَظَّىٰ﴾ [سورة الليل: 14]۔