السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: المسبوق ببعض صلاته يصنع ما يصنع الإمام، فإذا سلم الإمام قام فأتم باقي صلاته باب: مسبوق (جس کی کچھ نماز چھوٹ گئی ہو) وہی کرے جو امام کرتا ہے، پھر جب امام سلام پھیر لے تو کھڑا ہو اور اپنی بقیہ نماز پوری کرے
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ ثنا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا الْمَسْعُودِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: أُحِيلَتِ الصَّلَاةُ ثَلَاثَةَ أَحْوَالٍ، فَذَكَرَ حَالَ الْقِبْلَةِ وَحَالَ الْأَذَانِ فَهَذَانِ حَالِانِ قَالَ: وَكَانُوا يَأْتُونَ الصَّلَاةَ وَقَدْ سَبَقَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَعْضِ الصَّلَاةِ، فَيُشِيرُ إِلَيْهِمْ كَمْ صَلَّى بِالْأَصَابِعِ وَاحِدَةً اثِنْتَيْنِ، فَجَاءَ مُعَاذٌ وَقَدْ سَبَقَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَعْضِ الصَّلَاةِ، فَقَالَ: لَا أَجِدُهُ عَلَى حَالٍ إِلَّا كُنْتُ عَلَيْهَا ثُمَّ قَضَيْتُ فَدَخَلَ فِي الصَّلَاةِ فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ مُعَاذٌ يَقْضِي، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَدْ سَنَّ لَكُمْ مُعَاذٌ فَهَكَذَا فَافْعَلُوا " وَرَوَاهُ شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا أَصْحَابُنَا قَالَ: كَانَ الرَّجُلُ إِذَا جَاءَ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ وَذَلِكَ أَصَحُّ لِأَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَى لَمْ يُدْرِكْ مُعَاذًا.حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہر نماز تین طریقوں کے ساتھ فرض کی گئی ہے۔۔۔ پھر انہوں نے قبلے اور اذان کی کیفیت کا ذکر کیا اور فرمایا: یہ دونوں حالتیں ہیں۔ فرماتے ہیں کہ وہ نماز کے لیے آ رہے تھے اور وہ نماز کا کچھ حصہ نبی ﷺ سے سبقت لے گئے تو اس نے ان کی طرف اشارہ کیا کہ کتنی نماز پڑھی ہے؟ انہوں نے انگلیوں کے ساتھ گن کر بتایا، دو یا تین۔ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ آئے تو نبی ﷺ کچھ نماز پڑھ چکے تھے، انہوں نے فرمایا: میں بھی ابھی پہنچا ہوں۔ پھر میں نے نماز مکمل کی تو وہ نماز میں رہے جب رسول اللہ ﷺ نے نماز مکمل کی تو حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نماز مکمل کرنے کے لیے کھڑے ہو گئے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”معاذ نے تمہارے لیے اچھا طریقہ سمجھا ہے، اسی طرح کیا کرو۔“