حدیث نمبر: 3606
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ يَحْيَى الْأَدَمِيُّ بِبَغْدَادَ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ زِيَادِ بْنِ مِهْرَانَ السِّمْسَارُ، ثنا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، ثنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ مُجَاهِدٍ أَبِي حَرْزَةَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ ⦗٤١٨⦘ الصَّامِتِ قَالَ: أَتَيْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ فِي مَسْجِدِهِ فَقَالَ: أَتَانَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسْجِدِنَا هَذَا وَفِي يَدِهِ عُرْجُونُ ابْنِ طَابٍ فَرَأَى فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ نُخَامَةً فَحَكَّهَا بِالْعُرْجُونِ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا، فَقَالَ: " أَيُّكُمْ يُحِبُّ أَنْ يُعْرِضَ اللهُ عَنْهُ؟ " قَالَ: فَخَشَعْنَا ثُمَّ قَالَ: " أَيُّكُمْ يُحِبُّ أَنْ يُعْرِضَ اللهُ عَنْهُ؟ " قَالَ: فَخَشَعْنَا ثُمَّ قَالَ: " أَيُّكُمْ يُحِبُّ أَنْ يُعْرِضَ اللهُ عَنْهُ؟ " قَالَ: قُلْنَا: لَا أَيُّنَا يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: " فَإِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا قَامَ يُصَلِّي فَإِنَّ اللهَ قِبَلَ وَجْهِهِ فَلَا يَبْصُقَنَّ قِبَلَ وَجْهِهِ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ وَلْيَبْصُقْ تَحْتَ رِجْلِهِ الْيُسْرَى فَإِنْ عَجَلَتْ بِهِ بَادِرَةٌ فَلْيَقُلْ هَكَذَا بِثَوْبِهِ " ثُمَّ طَوَى ثَوْبَهُ بَعْضَهُ عَلَى بَعْضٍ " أَرُونِي عَبِيرًا " فَقَامَ فَتًى مِنَ الْحِيِّ يَشْتَدُّ إِلَى أَهْلِهِ فَجَاءَ بِخَلُوقٍ فِي رَاحَتِهِ فَأَخَذَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَهُ فِي رَأْسِ الْعُرْجُونِ، ثُمَّ لَطَخَ بِهِ عَلَى أَثَرِ النُّخَامَةِ قَالَ جَابِرٌ: فَمِنْ هُنَاكَ جَعَلْتُمُ الْخَلُوقَ فِي مَسَاجِدِكُمْ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ هَارُونَ بْنِ مَعْرُوفٍ وَقَالَ: " لِيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ تَحْتَ رِجْلِهِ الْيُسْرَى ".
حافظ ثناء اللہ

(ا) عبادہ بن ولید بن عبادہ بن صامت سے روایت ہے کہ ہم جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے پاس ان کی مسجد میں آئے۔ انہوں نے بیان کیا کہ ہم مسجد میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ ﷺ کے ہاتھ میں ابن طاب نامی کھجور کی شاخ تھی، آپ ﷺ نے نظر دوڑائی تو مسجد کے قبلے کی طرف بلغم لگی ہوئی دیکھی۔ آپ ﷺ نے اسے شاخ سے کھرچ ڈالا۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کون شخص یہ پسند کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے اپنا چہرہ پھیر لے؟“ ہم ڈر گئے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کون پسند کرتا ہے کہ اللہ اس سے اپنا چہرہ پھیر لے؟“ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم میں سے کوئی بھی پسند نہیں کرتا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے جب کوئی شخص نماز پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے سامنے ہوتا ہے اس لیے کوئی بھی اپنے سامنے اور دائیں طرف نہ تھوکے بلکہ بائیں جانب پاؤں کے نیچے تھوک لے۔ اگر جلدی سے بلغم آئے تو پھر اپنے کپڑے پر اس طرح کرے“، پھر آپ ﷺ نے اپنے کپڑے کو آپس میں مسل دیا اور فرمایا: ”عبیر خوشبو لے کر آؤ۔“ قبیلہ کا ایک نوجوان اٹھا، دوڑتا ہوا اپنے گھر گیا اور اپنی ہتھیلی میں خلوق خوشبو لے کر آیا۔ رسول اللہ ﷺ نے خوشبو لے کر شاخ کے سرے پر لگائی، پھر اسے بلغم کے نشان پر لگا دیا۔
(ب) جابر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: اسی کی بنیاد پر تم مساجد میں خوشبو لگاتے ہو۔
(ج) ہارون بن معروف کی روایت میں ہے: ”اپنی بائیں طرف بائیں پاؤں کے نیچے تھوک لے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3606
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه مسلم 3008»