کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: قبلہ رخ سے بلغم کھرچنے کے متعلق جو مروی ہے اس کا بیان
حدیث نمبر: 3601
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ أَخْبَرَكَ يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، وَأَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَقُولَانِ: رَأَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُخَامَةً فِي الْقِبْلَةِ فَتَنَاوَلَ حَصَاةً فَحَكَّهَا ثُمَّ قَالَ: " لَا يَتَنَخَّمُ أَحَدُكُمْ فِي الْقِبْلَةِ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ وَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ رِجْلِهِ الْيُسْرَى " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ حَرْمَلَةَ وَغَيْرِهِ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وُجُوهٍ أُخَرَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ.
حافظ ثناء اللہ
حمید بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہما کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے قبلہ کی دیوار میں بلغم دیکھی تو ایک کنکری لے کر اس کو کھرچ ڈالا، پھر فرمایا: ”تم میں سے کوئی بھی قبلہ کی طرف نہ تھوکے اور نہ ہی اپنی دائیں طرف بلکہ بائیں طرف یا اپنے بائیں پاؤں کے نیچے تھوک لے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3601
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه البخاري 400»
حدیث نمبر: 3602
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى بُصَاقًا فِي جِدَارِ الْقِبْلَةِ فَحَكَّهُ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ: " إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ يُصَلِّي فَلَا يَبْصُقْ قِبَلَ وَجْهِهِ فَإِنَّ اللهَ تَعَالَى قِبَلَ وَجْهِهِ إِذَا صَلَّى ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قبلہ کی دیوار میں تھوک دیکھا تو اس کو کھرچ ڈالا، پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”تم میں سے کوئی بھی نماز میں قبلے کی طرف نہ تھوکے اور نہ ہی اپنے چہرے کے سامنے تھوکے کیونکہ جب وہ نماز پڑھ رہا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے سامنے ہوتا ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3602
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه البخاري 398»
حدیث نمبر: 3603
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الْإِمَامُ، وَأَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْعَنْبَرِيُّ قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
حافظ ثناء اللہ
ایک دوسری سند سے اسی کی مثل روایت بخاری میں موجود ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3603
درجۂ حدیث محدثین: تقدم قبله
تخریج حدیث «تقدم قبله»
حدیث نمبر: 3604
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَمَا هُوَ يَخْطُبُ إِذْ رَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَتَغَيَّظَ عَلَى أَهْلِ الْمَسْجِدِ، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ اللهَ تَعَالَى قِبَلَ أَحَدِكُمْ إِذَا صَلَّى فَلَا يَبْزُقَنَّ أَوْ لَا يَتَنَخَّمَنَّ " ثُمَّ نَزَلَ فَحَتَّهُ بِيَدِهِ ثُمَّ لَطَخَهُ فِيمَا أَظُنُّهُ بِزَعْفَرَانٍ " وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: إِذَا تَنَخَّعَ أَحَدُكُمْ فَلْيَتَنَخَّعْ عَنْ يَسَارِهِ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ دُونَ كَلِمَةِ اللَّطْخِ فِيمَا أَظُنُّ بِالزَّعْفَرَانِ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ دُونَهَا بِمَعْنَى حَدِيثِ مَالِكٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، اچانک آپ نے قبلہ کی دیوار پر بلغم لگی دیکھی تو لوگوں پر غصہ ہو گئے اور فرمایا: ”اللہ تعالیٰ تمہارے سامنے ہوتا ہے، جب کوئی نماز پڑھے تو اپنے سامنے نہ تھوکے اور نہ ہی بلغم پھینکے۔“ پھر آپ نے (منبر سے) اتر کر اس کو کھرچ ڈالا اور وہاں کوئی چیز لگائی۔ میرا خیال ہے کہ زعفران منگوا کر دیوار پر مل دیا۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی بلغم پھینکے تو اپنے بائیں طرف پھینکے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3604
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه البخاري 720»
حدیث نمبر: 3605
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " أَنَّهُ رَأَى بُصَاقًا فِي جِدَارِ الْقِبْلَةِ أَوْ مُخَاطًا أَوْ نُخَاعَةً فَحَكَّهُ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ مَالِكٍ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ قُتَيْبَةَ وَأَخْرَجَاهُ أَيْضًا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے قبلہ کی دیوار میں تھوک یا بلغم یا سینڈھ دیکھی تو اس کو کھرچ ڈالا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3605
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه البخاري 399۔ اخرجه مسلم 549»
حدیث نمبر: 3606
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ يَحْيَى الْأَدَمِيُّ بِبَغْدَادَ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ زِيَادِ بْنِ مِهْرَانَ السِّمْسَارُ، ثنا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، ثنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ مُجَاهِدٍ أَبِي حَرْزَةَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ ⦗٤١٨⦘ الصَّامِتِ قَالَ: أَتَيْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ فِي مَسْجِدِهِ فَقَالَ: أَتَانَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسْجِدِنَا هَذَا وَفِي يَدِهِ عُرْجُونُ ابْنِ طَابٍ فَرَأَى فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ نُخَامَةً فَحَكَّهَا بِالْعُرْجُونِ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا، فَقَالَ: " أَيُّكُمْ يُحِبُّ أَنْ يُعْرِضَ اللهُ عَنْهُ؟ " قَالَ: فَخَشَعْنَا ثُمَّ قَالَ: " أَيُّكُمْ يُحِبُّ أَنْ يُعْرِضَ اللهُ عَنْهُ؟ " قَالَ: فَخَشَعْنَا ثُمَّ قَالَ: " أَيُّكُمْ يُحِبُّ أَنْ يُعْرِضَ اللهُ عَنْهُ؟ " قَالَ: قُلْنَا: لَا أَيُّنَا يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: " فَإِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا قَامَ يُصَلِّي فَإِنَّ اللهَ قِبَلَ وَجْهِهِ فَلَا يَبْصُقَنَّ قِبَلَ وَجْهِهِ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ وَلْيَبْصُقْ تَحْتَ رِجْلِهِ الْيُسْرَى فَإِنْ عَجَلَتْ بِهِ بَادِرَةٌ فَلْيَقُلْ هَكَذَا بِثَوْبِهِ " ثُمَّ طَوَى ثَوْبَهُ بَعْضَهُ عَلَى بَعْضٍ " أَرُونِي عَبِيرًا " فَقَامَ فَتًى مِنَ الْحِيِّ يَشْتَدُّ إِلَى أَهْلِهِ فَجَاءَ بِخَلُوقٍ فِي رَاحَتِهِ فَأَخَذَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَهُ فِي رَأْسِ الْعُرْجُونِ، ثُمَّ لَطَخَ بِهِ عَلَى أَثَرِ النُّخَامَةِ قَالَ جَابِرٌ: فَمِنْ هُنَاكَ جَعَلْتُمُ الْخَلُوقَ فِي مَسَاجِدِكُمْ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ هَارُونَ بْنِ مَعْرُوفٍ وَقَالَ: " لِيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ تَحْتَ رِجْلِهِ الْيُسْرَى ".
حافظ ثناء اللہ
(ا) عبادہ بن ولید بن عبادہ بن صامت سے روایت ہے کہ ہم جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے پاس ان کی مسجد میں آئے۔ انہوں نے بیان کیا کہ ہم مسجد میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ ﷺ کے ہاتھ میں ابن طاب نامی کھجور کی شاخ تھی، آپ ﷺ نے نظر دوڑائی تو مسجد کے قبلے کی طرف بلغم لگی ہوئی دیکھی۔ آپ ﷺ نے اسے شاخ سے کھرچ ڈالا۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کون شخص یہ پسند کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے اپنا چہرہ پھیر لے؟“ ہم ڈر گئے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کون پسند کرتا ہے کہ اللہ اس سے اپنا چہرہ پھیر لے؟“ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم میں سے کوئی بھی پسند نہیں کرتا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے جب کوئی شخص نماز پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے سامنے ہوتا ہے اس لیے کوئی بھی اپنے سامنے اور دائیں طرف نہ تھوکے بلکہ بائیں جانب پاؤں کے نیچے تھوک لے۔ اگر جلدی سے بلغم آئے تو پھر اپنے کپڑے پر اس طرح کرے“، پھر آپ ﷺ نے اپنے کپڑے کو آپس میں مسل دیا اور فرمایا: ”عبیر خوشبو لے کر آؤ۔“ قبیلہ کا ایک نوجوان اٹھا، دوڑتا ہوا اپنے گھر گیا اور اپنی ہتھیلی میں خلوق خوشبو لے کر آیا۔ رسول اللہ ﷺ نے خوشبو لے کر شاخ کے سرے پر لگائی، پھر اسے بلغم کے نشان پر لگا دیا۔
(ب) جابر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: اسی کی بنیاد پر تم مساجد میں خوشبو لگاتے ہو۔
(ج) ہارون بن معروف کی روایت میں ہے: ”اپنی بائیں طرف بائیں پاؤں کے نیچے تھوک لے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3606
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه مسلم 3008»