السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من وجد في صلاته قملة فصرها ثم أخرجها من المسجد، أو دفنها فيه أو قتلها باب: اس شخص کا بیان جس نے اپنی نماز میں جوں پائی تو اسے کپڑے میں باندھ لیا پھر اسے مسجد سے باہر نکال دیا، یا اسے وہیں دفن کر دیا یا اسے مار دیا
حدیث نمبر: 3607
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا مُسْلِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ، ثنا هِشَامٌ يَعْنِي الدَّسْتُوَائِيُّ، ثنا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ، عَنِ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمُ الْقَمْلَةَ وَهُوَ يُصَلِّي فَلَا يَقْتُلْهَا وَلَكِنْ يَصُرَّهَا حَتَّى يُصَلِّيَ " وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ مُبَارَكٍ: عَنْ يَحْيَى: " فَلْيَصُرَّهَا حَتَّى يُخْرِجَهَا " يَعْنِي مِنَ الْمَسْجِدِ.حافظ ثناء اللہ
(الف) انصار کے ایک آدمی سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی دورانِ نماز جوں وغیرہ پائے تو اس کو نہ مارے بلکہ اس کو پکڑ کر رکھے، نماز کے بعد اس کو مار دے۔“
(ب) علی بن مبارک رحمہ اللہ یحییٰ کے واسطے سے بیان کرتے ہیں کہ ”اس کو روکے رکھے، پھر اس کو مسجد سے نکال دے۔“