السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: كراهية مسح الحصا وتسويته في الصلاة فإن كان لا بد فاعلا فمرة واحدة باب: نماز میں کنکریوں کو ہٹانے اور انہیں برابر کرنے کی کراہت، اور اگر ایسا کرنا ناگزیر ہو تو صرف ایک بار کرنے کا بیان
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْقَارِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: رَأَيْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ إِذَا هَوَى يَسْجُدُ يَمْسَحُ الْحَصَا لِوَضْعِ جَبْهَتِهِ مَسْحًا خَفِيفًا قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذَا الْقَدْرُ هُوَ الْمُرَخَّصُ فِيهِ وَإِنَّمَا الْكَرَاهِيَةُ فِي الْعَبَثِ بِهِ وَلَوْ سَوَّاهُ قَبْلَ الدُّخُولِ فِي الصَّلَاةِ كَمَا فَعَلَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ أَوْلَى وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ، ⦗٤٠٥⦘ وَرُوِّينَا عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ أَنَّهُ رَأَى رَجُلًا يَعْبَثُ بِالْحَصَا، فَقَالَ: لَوْ خَشَعَ قَلْبُ هَذَا خَشَعَتْ جَوَارِحُهُ.(ا) ابوجعفر قاری سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا، جب وہ سجدے کے لیے جھکتے تو اپنے سجدے والی جگہ سے کنکریاں ہٹانے کے لیے معمولی سا عمل کرتے۔
(ب) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اتنی مقدار کی رخصت ہے اور جہاں لفظ کراہت استعمال ہوا ہے اس سے مراد یہ ہے کہ ان کے ساتھ فضول نہ کھیلے۔ اگر انہیں نماز سے پہلے برابر کر دے جیسا کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے عمل سے ثابت ہے تو یہ بہت بہتر ہے۔ «وَبِاللہِ التَّوْفِیْقُ»
(ج) سعید بن مسیب رحمہ اللہ کے واسطے سے ہمیں روایت بیان کی گئی کہ انہوں نے (دوران نماز) ایک شخص کو کنکریوں کے ساتھ کھیلتے دیکھا تو فرمایا: اگر اس کے دل میں خشوع ہوتا تو اس کے دیگر اعضا بھی خشوع کرتے۔