السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: قراءة من قرأ وأرجلكم نصبا وأن الأمر رجع إلى الغسل وأن من قرأها خفضا فإنما هو للمجاورة باب: اس شخص کی قراءت کا بیان جس نے ”وأرجلكم“ کو نصب کے ساتھ پڑھا اور یہ کہ حکم دھونے کی طرف لوٹتا ہے، اور جس نے اسے جر (زیر) کے ساتھ پڑھا تو وہ محض مجاورت (پڑوس) کی وجہ سے ہے
حدیث نمبر: 352
وَمِنْهَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْوَرَّاقُ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبُرِّيِّ الْقَاضِي، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا رَبِيعَةُ الْكِنَانِيُّ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سُئِلَ عَنْ وُضُوءِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَرَاقَ الْمَاءَ فِي الرَّحَبَةِ ثُمَّ قَالَ: " أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ وُضُوءِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ " فَغَسَلَ يَدَيْهِ ثَلَاثًا، وَوَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ حَتَّى أَلَمَّ أَنْ يَقْطُرَ، وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: " هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ ". لَيْسَ فِي رِوَايَةِ الْفَقِيهِ قَوْلُهُ: " حَتَّى أَلَمَّ أَنْ يَقْطُرَ " وَالْبَاقِي سَوَاءٌ.حافظ ثناء اللہ
زر بن حبیش سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ ﷺ کے وضو کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے ایک برتن میں پانی ڈالا، پھر پوچھا: سائل کہاں ہے جس نے رسول اللہ ﷺ کے وضو کے متعلق پوچھا تھا؟ پھر اپنے ہاتھوں کو تین مرتبہ دھویا اور اپنے چہرے کو تین مرتبہ اور اپنے بازوؤں کو تین مرتبہ اور اپنے سر کا مسح کیا اور قریب تھا کہ سر سے پانی کے قطرے ٹپکیں اور اپنے پاؤں کو تین تین مرتبہ دھویا، پھر کہا: اسی طرح رسول اللہ ﷺ وضو کیا کرتے تھے۔