السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: قراءة من قرأ وأرجلكم نصبا وأن الأمر رجع إلى الغسل وأن من قرأها خفضا فإنما هو للمجاورة باب: اس شخص کی قراءت کا بیان جس نے ”وأرجلكم“ کو نصب کے ساتھ پڑھا اور یہ کہ حکم دھونے کی طرف لوٹتا ہے، اور جس نے اسے جر (زیر) کے ساتھ پڑھا تو وہ محض مجاورت (پڑوس) کی وجہ سے ہے
حدیث نمبر: 351
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، ثنا خَالِدُ بْنُ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ دَعَا بِوَضُوءٍ، فَأُتِيَ بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَى أَنْ قَالَ: ثُمَّ صَبَّ بِيَدِهِ الْيُمْنَى ثَلَاثَ مَرَّاتٍ عَلَى قَدَمِهِ الْيُمْنَى، ثُمَّ غَسَلَهَا بِيَدِهِ الْيُسْرَى، ثُمَّ صَبَّ بِيَدِهِ الْيُمْنَى عَلَى قَدَمِهِ الْيُسْرَى ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ غَسَلَهَا بِيَدِهِ الْيُسْرَى، ثُمَّ قَالَ: " هَذَا طُهُورُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے وضو کا پانی منگوایا، ایک پانی والا برتن لایا گیا۔۔۔ اس میں ہے کہ آپ نے اپنے دائیں ہاتھ سے دائیں پاؤں پر تین مرتبہ پانی بہایا، پھر اسے بائیں ہاتھ سے دھویا، پھر اپنے دائیں ہاتھ سے بائیں پاؤں پر پانی بہایا اور اسے اپنے بائیں ہاتھ سے دھویا، پھر فرمایا: ”یہ ہے رسول اللہ ﷺ کا وضو۔“