السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الدليل على أن مرور الحمار بين يديه لا يفسد الصلاة باب: اس بات کی دلیل کہ نمازی کے آگے سے گدھے کے گزرنے سے نماز فاسد نہیں ہوتی
حدیث نمبر: 3503
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ الْخُزَاعِيُّ أنبأ أَبُو شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمَدِينِيِّ، ثنا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ، عَنْ أَبِي الصَّهْبَاءِ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ فَذَكَرُوا عِنْدَهُ مَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ، فَقَالَ: الْكَلْبُ وَالْمَرْأَةُ وَالْحِمَارُ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: جِئْتُ أَنَا وَغُلَامٌ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ، أَوْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ مُرْتَدِفَيْنِ عَلَى حِمَارٍ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ فِي خَلَاءٍ فَنَزَلْنَا عَنِ الْحِمَارِ وَتَرَكْنَاهُ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ فَمَا بَالِاهُ قَالَ: وَجَاءَتْ جَارِيَتَانِ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ تَشْتَدَّانِ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ فَاقْتَتَلَتَا فَأَخَذَهُمَا فَنَزَعَ إِحْدَاهُمَا مِنَ الْأُخْرَى فَمَا بَالِاهُ.حافظ ثناء اللہ
ابو صہبا رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ہم سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس تھے تو لوگوں نے ذکر کیا کہ کون سی چیز نماز توڑتی ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: عورت اور گدھا۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں اور بنو ہاشم یا بنو عبدالمطلب کا ایک لڑکا دونوں ایک گدھے پر بیٹھے ہوئے آئے اور رسول اللہ ﷺ میدان میں لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے۔ ہم گدھے سے اترے اور اس کو ان کے سامنے چھوڑ دیا، اس کا کوئی خیال نہ رکھا۔ بنو ہاشم کی دو بچیاں دوڑتی ہوئی آئیں اور لڑ پڑیں تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں پکڑ کر ایک دوسرے سے علیحدہ کر دیا اور اس کی کوئی پروا نہ کی۔