السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الدليل على أن مرور الحمار بين يديه لا يفسد الصلاة باب: اس بات کی دلیل کہ نمازی کے آگے سے گدھے کے گزرنے سے نماز فاسد نہیں ہوتی
حدیث نمبر: 3504
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ، عَنْ صُهَيْبٍ، قُلْتُ: مَنْ صُهَيْبٌ قَالَ: رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ كَانَ عَلَى حِمَارٍ هُوَ وَغُلَامٌ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ فَمَرَّ بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي فَلَمْ يَنْصَرِفْ لِذَلِكَ وَجَاءَتْ جَارِيَتَانِ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَأَخَذَتَا بِرُكْبَتَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفَرَّعَ بَيْنَهُمَا، يَعْنِي بِذَلِكَ فَرَّقَ بَيْنَهُمَا، وَلَمْ يَنْصَرِفْ لِذَلِكَ ".حافظ ثناء اللہ
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں اور بنو ہاشم کا ایک بچہ دونوں گدھے پر سوار ہو کر آئے اور رسول اللہ ﷺ کے سامنے سے گزرے اور آپ ﷺ نماز پڑھ رہے تھے، آپ نے اس وجہ سے نماز نہیں توڑی۔ بنو عبدالمطلب کی دو بچیاں آئیں اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے گھٹنوں کو پکڑ لیا اور آپ ﷺ نے ان دونوں کے درمیان صلح کروا دی اور انہیں علیحدہ کر دیا، لیکن اس وجہ سے نماز نہیں توڑی۔