السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الدليل على أن مرور الحمار بين يديه لا يفسد الصلاة باب: اس بات کی دلیل کہ نمازی کے آگے سے گدھے کے گزرنے سے نماز فاسد نہیں ہوتی
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، فَذَكَرَهُ مِثْلَ حَدِيثِ الْقَعْنَبِيِّ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: بَيْنَ يَدَيِ الصَّفِّ، وَقَالَ: فَلَمْ يُنْكِرْ ذَلِكَ عَلَيَّ أَحَدٌ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، وَعَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيِّ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَرَوَاهُ يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، فَقَالَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ: وَرَوَاهُ مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، فَقَالَ: فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ: أَوْ قَالَ: يَوْمَ الْفَتْحِ وَحَجَّةُ الْوَدَاعِ أَصَحُّ، وُرُوِّينَا فِي رِوَايَةِ مَالِكٍ فِي كِتَابِ الْمَنَاسِكِ مِنَ الْمُوَطَّأِ أَنَّهُ قَالَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: إِلَى غَيْرِ جِدَارٍ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: يَعْنِي وَاللهُ أَعْلَمُ إِلَى غَيْرِ سُتْرَةٍ وَذَلِكَ يَدُلُّ عَلَى خَطَأِ مَنْ زَعَمَ أَنَّهُ صَلَّى إِلَى سُتْرَةٍ وَإِنَّ سُتْرَةَ الْإِمَامِ سُتْرَةُ الْمَأْمُومِ؛ فَلِذَلِكَ لَمْ يَقْطَعْ مُرُورُ الْحِمَارِ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ صَلَاتَهُمْ فَفِي رِوَايَةِ مَالِكٍ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّهُ صَلَّى إِلَى غَيْرِ سُتْرَةٍ، وَاللهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.(ا) ایک دوسری سند سے اسی کی مثل روایت منقول ہے مگر اس میں «بَيْنَ يَدَيِ الصَّفِّ» ہے، ”بعض“ کا لفظ نہیں ہے اور فرمایا: ”مجھ پر کسی نے اعتراض نہ کیا۔“
(ب) یونس بن یزید نے اس حدیث کو ابن شہاب رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے کہ یہ واقعہ منیٰ میں حجۃ الوداع کے موقع پر ہوا۔
(ج) معمر، ابن شہاب رحمہ اللہ سے اس کو روایت کرتے ہیں کہ حجۃ الوداع یا فتح مکہ کے دن اور حجۃ الوداع والا قول زیادہ صحیح ہے۔
(د) مؤطا کی کتاب المناسک سے ہم امام مالک رحمہ اللہ کی روایت بیان کر چکے ہیں کہ انہوں نے اس حدیث میں فرمایا: «إِلٰى غَيْرِ جِدَارٍ» ”دیوار کے علاوہ کی طرف۔“
(ہ) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”سترے کے بغیر۔“ واللہ اعلم۔
(و) یہ بات اس آدمی کی خطا پر دلالت کرتی ہے جو یہ خیال کرتا ہے کہ آپ ﷺ نے سترے کی جانب نماز پڑھی اور امام کا سترہ مقتدی کا سترہ ہوتا ہے۔ اس وجہ سے گدھے کے گزرنے سے ان کی نماز نہیں ٹوٹی اور امام مالک رحمہ اللہ کی روایت میں اس بات کی دلیل ہے کہ آپ ﷺ نے سترے کے بغیر نماز پڑھی۔