السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الدليل على أن مرور الحمار بين يديه لا يفسد الصلاة باب: اس بات کی دلیل کہ نمازی کے آگے سے گدھے کے گزرنے سے نماز فاسد نہیں ہوتی
حدیث نمبر: 3501
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ فِي آخَرِينَ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَقْبَلْتُ رَاكِبًا عَلَى أَتَانٍ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ قَدْ نَاهَزْتُ الِاحْتِلَامَ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ بِمِنًى فَمَرَرْتُ بَيْنَ يَدَيْ بَعْضِ الصَّفِّ فَنَزَلَتُ وَأَرْسَلْتُ الْأَتَانَ تَرْتَعُ وَدَخَلْتُ فِي الصَّفِّ فَلَمْ يُنْكِرْ ذَلِكَ عَلَيَّ أَحَدٌ " ⦗٣٩٣⦘ وَفِي حَدِيثِ الشَّافِعِيِّ: " فَأَرْسَلْتُ حِمَارِي تَرْتَعُ وَدَخَلْتُ الصَّفَّ فَلَمْ يُنْكِرْ ذَلِكَ عَلَيَّ أَحَدٌ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں ایک گدھی پر سوار ہو کر آیا اور ان دنوں میں بلوغت کے قریب تھا۔ رسول اللہ ﷺ منیٰ میں لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے۔ میں صف کے کچھ حصے کے سامنے سے گزر کر گدھی سے اترا اور گدھی کو چرنے کے لیے چھوڑ دیا اور صف میں جا کر مل گیا۔ مجھ پر کسی نے اعتراض نہیں کیا۔
امام شافعی رحمہ اللہ کی روایت میں ہے کہ میں نے اپنے گدھے کو چرنے کے لیے چھوڑ دیا اور خود صف میں شامل ہوا اور مجھ پر کسی نے اعتراض نہیں کیا۔