السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الدليل على أن مرور الحمار بين يديه لا يفسد الصلاة باب: اس بات کی دلیل کہ نمازی کے آگے سے گدھے کے گزرنے سے نماز فاسد نہیں ہوتی
حدیث نمبر: 3500
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ إِمْلَاءً أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَهُ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: جِئْتُ أَنَا وَالْفَضْلُ بْنُ الْعَبَّاسِ يَوْمَ عَرَفَةَ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ وَنَحْنُ عَلَى أَتَانٍ لَنَا، فَمَرَرْنَا بِبَعْضِ الصَّفِّ، فَنَزَلْنَا عَنْهَا وَتَرَكْنَاهَا تَرْتَعُ، وَلَمْ يَقُلْ لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَغَيْرِهِ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبیداللہ بن عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں اور سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما عرفہ کے دن آئے اور رسول اللہ ﷺ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے اور ہم اپنی گدھی پر سوار ہو کر آئے تھے۔ ہم صف کے کچھ حصے کے سامنے سے گزر گئے، پھر اس سے اتر کر اس کو چرنے کے لیے چھوڑ دیا اور رسول اللہ ﷺ نے ہمیں کچھ بھی نہیں فرمایا۔