السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من قال يقطع الصلاة إذا لم يكن بين يديه سترة المرأة والحمار والكلب الأسود باب: اس قول کا بیان کہ جب نمازی کے سامنے سترہ نہ ہو تو عورت، گدھا اور کالا کتا نماز کو توڑ دیتے ہیں
حدیث نمبر: 3483
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أنبأ أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ، ثنا أَبُو جَعْفَرِ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْمُنَادِي، ثنا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ الْعَدَوِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ الصَّامِتِ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " يَقْطَعُ صَلَاةَ الرَّجُلِ إِذَا لَمْ يَكُنْ بَيْنَ يَدَيْهِ مِثْلُ مُؤَخِّرَةِ الرَّحْلِ: الْمَرْأَةُ وَالْحِمَارُ وَالْكَلْبُ الْأَسْوَدُ " قَالَ: قُلْتُ: يَا أَبَا ذَرٍّ فَمَا بَالُ الْأَسْوَدِ مِنَ الْأَبْيَضِ مِنَ الْأَحْمَرِ؟ قَالَ: يَا ابْنَ أَخِي سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا سَأَلْتَنِي، فَقَالَ: " الْكَلْبُ الْأَسْوَدُ شَيْطَانٌ " أَخْرَجَهُ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ، وَيُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، وَجَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ وَسَلْمَ بْنِ أَبِي الذَّيَّالِ، وَعَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، فَسَاقَ حَدِيثَ يُونُسَ ثُمَّ أَحَالَ عَلَيْهِ حَدِيثَ الْبَاقِينَ، وَهَذَا مِنْهُ، رَحِمَنَا اللهُ، وَإِيَّاهُ تَجَوُّزٌ فَحَدِيثُ بَعْضِهِمْ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن صامت رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب نمازی کے سامنے پالان کی پچھلی لکڑی کے برابر کوئی چیز نہ ہو تو عورت، گدھا اور سیاہ کتا اس کی نماز کو توڑ دیتے ہیں۔“ میں نے کہا: اے ابوذر! کالے رنگ کی کیا وجہ ہے؟ سرخ اور سفید رنگ کے کتے سے نماز کیوں نہیں ٹوٹتی؟ انہوں نے فرمایا: میرے بھتیجے! میں نے رسول اللہ ﷺ سے ایسے ہی سوال کیا تھا جیسے آپ نے مجھ سے کیا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”سیاہ کتا شیطان ہوتا ہے۔“