السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ما يكون سترة المصلي باب: نمازی کا سترہ کیا چیز ہو اس کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، ثنا أَبُو الْعُمَيْسِ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْأَبْطَحِ قَالَ: فَجَاءَهُ بِلَالٌ فَآذَنَهُ بِالصَّلَاةِ قَالَ: فَدَعَا بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ قَالَ: فَجَعَلَ النَّاسُ يَأْتُونَ وُضُوءَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَتَمَسَّحُونَ بِهِ، ثُمَّ أَخَذَ بِلَالٌ الْعَنَزَةَ فَمَشَى بِهَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ثُمَّ أَقَامَ الصَّلَاةَ وَرَكَزَهَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ " قَالَ: وَالظَّعْنُ يَمُرُّونَ بَيْنَ يَدَيْهِ: الْمَرْأَةُ وَالْحِمَارُ وَالْبَعِيرُ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْحَاقَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مَنْصُورٍ وَعَبْدِ بْنِ حُمَيْدٍ جَمِيعًا، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَوْنٍ وَرَوَاهُ شُعْبَةُ، عَنْ عَوْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، فَقَالَ: " يَمُرُّ خَلْفَ الْعَنَزَةِ الْمَرْأَةُ وَالْحِمَارُ ".سیدنا ابوجحیفہ رضی اللہ عنہما اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ بطحاء میں تھے کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ آئے، انہوں نے اذان کہی، پھر آپ ﷺ نے وضو کے لیے پانی منگوایا اور وضو کیا۔ لوگ رسول اللہ ﷺ کے وضو کے پانی کو لے کر اپنے اوپر مل لیتے، پھر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے برچھی پکڑی اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ساتھ چلے اور اس کو اپنے سامنے گاڑ لیا اور دو رکعتیں پڑھیں۔ آپ ﷺ کے سامنے کانسی دار لکڑی تھی اور اس کی دوسری طرف سے عورت، گدھے اور اونٹ گزرتے رہے۔
(ب) شعبہ نے یہ روایت عون سے ان کے والد کے واسطہ سے نقل کی ہے کہ برچھی کے پیچھے سے عورت اور گدھا (وغیرہ) گزرتے رہے۔