السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ما يكون سترة المصلي باب: نمازی کا سترہ کیا چیز ہو اس کا بیان
حدیث نمبر: 3459
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا مُعْتَمِرٌ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعَرِّضُ رَاحِلَتَهُ فَيُصَلِّي إِلَيْهَا، قُلْتُ: أَفَرَأَيْتَ إِذَا ذَهَبَتِ الرِّكَابُ؟ قَالَ: كَانَ يَأْخُذُ الرَّحْلَ فَيُعَدِّلُهُ فَيُصَلِّي إِلَى آخِرَتِهِ، أَوْ قَالَ: مُؤَخَّرَتِهِ " ⦗٣٨٢⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيِّ، وَزَادَ فِيهِ: وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَفْعَلُهُ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ اپنی سواری چوڑائی میں بٹھاتے۔ پھر اس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے۔ میں نے عرض کیا: جب اونٹ چل رہے ہوتے تو آپ کیا کرتے؟ انہوں نے فرمایا کہ پالان کی لکڑی کو سامنے سیدھا رکھتے اور اس کی پچھلی لکڑی کی طرف نماز پڑھتے۔
(ب) ایک دوسری روایت میں اضافہ ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسا کیا کرتے تھے۔