السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: المصلي يدفع المار بين يديه باب: نمازی کا اپنے آگے سے گزرنے والے کو ہٹانے (روکنے) کا بیان
حدیث نمبر: 3451
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ثنا هِشَامُ بْنُ الْغَازِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: هَبَطْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ثَنِيَّةٍ أَذَاخِرَ فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَصَلَّى إِلَى جِدَارٍ فَاتَّخَذَهُ قِبْلَةً وَنَحْنُ خَلْفَهُ فَجَاءَتْ بَهْمَةٌ لَتَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ فَمَا زَالَ يُدَارِيهَا حَتَّى لَصَقَ بَطْنُهُ بِالْجِدَارِ وَمَرَّتْ مِنْ وَرَائِهِ ".حافظ ثناء اللہ
عمرو بن شعیب رحمہ اللہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اذاخر (مدینہ کے درمیان ایک مقام) گھاٹی سے اترے، نماز کا وقت ہو گیا۔ آپ ﷺ نے دیوار کو سترہ بنا کر اس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی۔ ہم آپ ﷺ کے پیچھے تھے، اتنے میں بکری کا ایک بچہ آیا جو آپ کے سامنے سے گزرنے لگا تو آپ نے اسے روکا حتی کہ آپ ﷺ نے اپنے پیٹ کو دیوار سے لگا دیا، تو وہ آپ کے پیچھے سے گزر گیا۔