السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: إثم المار بين يدي المصلي باب: نمازی کے آگے سے گزرنے والے کے گناہ کا بیان
حدیث نمبر: 3452
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنِي أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الصَّفَّارُ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ أَرْسَلَهُ إِلَى أَبِي جُهَيْمٍ يَسْأَلُهُ: مَاذَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَارِّ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي؟ قَالَ أَبُو جُهَيْمٍ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ يَعْلَمُ الْمَارُّ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي مَاذَا عَلَيْهِ لَكَانَ أَنْ يَقِفَ أَرْبَعِينَ خَيْرًا لَهُ مِنْ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ " قَالَ أَبُو النَّضْرِ: لَا أَدْرِي قَالَ: أَرْبَعِينَ يَوْمًا، أَوْ شَهْرًا، أَوْ سَنَةً رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ مَالِكٍ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.حافظ ثناء اللہ
بسر بن سعید رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ نے انہیں ابو جہیم رضی اللہ عنہ کے پاس یہ معلوم کرنے کے لیے بھیجا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے نمازی کے سامنے سے گزرنے والے کے متعلق کیا سنا ہے؟ ابو جہیم رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر نمازی کے سامنے سے گزرنے والے کو یہ معلوم ہو جائے کہ ایسا کرنے سے اسے کس قدر گناہ ہو گا، تو وہ نمازی کے سامنے سے گزرنے پر چالیس کے قیام کو ترجیح دے۔“ ابو نصر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مجھے معلوم نہیں کہ آپ نے چالیس دن، چالیس ماہ یا چالیس سال کا ذکر کیا۔