حدیث نمبر: 3449
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، ثنا الضَّحَاكُ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنِي صَدَقَةُ بْنُ يَسَارٍ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُصَلُّوا إِلَّا إِلَى سُتْرَةٍ وَلَا تَدَعْ أَحَدًا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْكَ فَإِنْ أَبَى فَقَاتِلْهُ فَإِنَّ مَعَهُ الْقَرِينُ " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرٍ الْحَنَفِيِّ دُونَ مَا فِي أَوَّلِهِ مِنَ السُّتْرَةِ.
حافظ ثناء اللہ

(ا) صدقہ بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سترے کی آڑ میں نماز پڑھو اور اپنے سامنے سے کسی کو نہ گزرنے دو، اگر وہ انکار کرے تو اس کے ساتھ لڑائی کرو کیونکہ وہ شیطان ہے۔“
(ب) صحیح مسلم میں یہ روایت ہے مگر اس کے شروع میں سترے کا ذکر نہیں۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3449
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه مسلم 506، ابن حبان 2369»