السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: المصلي يدفع المار بين يديه باب: نمازی کا اپنے آگے سے گزرنے والے کو ہٹانے (روکنے) کا بیان
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ ثنا مِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ طَالِبٍ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ الْعَدَوِيِّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يُصَلِّي فَمَرَّ رَجُلٌ مِنْ آلِ أَبِي مُعَيْطٍ فَمَنَعَهُ فَأَبَى أَنْ يَنْتَهِيَ فَنَبَذَهُ فَأَبَى فَدَفَعَ فِي صَدْرِهِ وَمَرْوَانُ يَوْمَئِذٍ أَمِيرٌ عَلَى الْمَدِينَةِ فَشَكَا ذَلِكَ إِلَيْهِ فَذَكَرَ ذَلِكَ مَرْوَانُ لِأَبِي سَعِيدٍ، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا مَرَّ بَيْنَ يَدَيْ أَحَدِكُمْ شَيْءٌ وَهُوَ يُصَلِّي فَلْيَمْنَعْهُ فَإِنْ أَبِي فَلْيُقَاتِلْهُ فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ " وَإِنِّي قَدْ كُنْتُ نَهَيْتُهُ فَأَبَى أَنْ يَنْتَهِيَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ عَلَى لَفْظِ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ مَضْمُومًا إِلَى ذَلِكَ الْإِسْنَادِ وَذَلِكَ مِنْهُ تَجَوُّزٌ إِلَّا أَنَّهُ، رَحِمَهُ اللهُ، أَفْرَدَهُ بِالذِّكْرِ عَلَى لَفْظِهِ فِي كِتَابِ بَدْءِ الْخَلْقِ.ابوصالح سے روایت ہے کہ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نماز پڑھ رہے تھے کہ آل ابی معیط کا ایک شخص آپ کے سامنے سے گزرنے لگا تو آپ نے اس کو روکا۔ اس نے رکنے سے انکار کیا تو سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے اس کو دھکا دیا تو اس نے انکار کر دیا تو انہوں نے اس کے سینے پر مارا۔ ان دنوں مروان مدینہ کا والی تھا۔ اس شخص نے مروان کو آپ کی شکایت کی تو مروان نے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے اس بات کا تذکرہ کیا تو سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی نماز پڑھ رہا ہو اور اس کے سامنے سے کوئی گزرے تو اس کو روکے۔ اگر وہ انکار کرے تو اس کے ساتھ لڑے کیونکہ وہ شیطان ہے“ اور میں اس کو روک رہا تھا اور یہ رکنے سے انکاری تھا۔