السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الإشارة فيما ينوبه في صلاته يريد بها إفهاما باب: نماز میں پیش آنے والے کسی معاملے میں اشارہ کرنا جب اس سے سمجھانا مقصود ہو
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ، وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَزْهَرَ، وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَرْسَلُوهُ إِلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ وَأَنَّهُمْ رَدُّوهُ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْهَا ثُمَّ رَأَيْتُهُ يُصَلِّيهِمَا، أَمَّا حِينَ صَلَّاهُمَا فَإِنَّهُ صَلَّى الْعَصْرَ ثُمَّ دَخَلَ وَعِنْدِي نِسْوَةٌ مِنْ بَنِي حَرَامٍ مِنَ الْأَنْصَارِ ⦗٣٧١⦘ فَصَلَّاهُمَا فَأَرْسَلْتُ إِلَيْهِ الْجَارِيَةُ فَقُلْتُ: قَوْمِي لِجَنْبِهِ فَقُولِي لَهُ: تَقُولُ أُمُّ سَلَمَةَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَسْمَعُكَ تَنْهَى عَنْ هَاتَيْنِ الرَّكْعَتَيْنِ وَأَرَاكَ تُصَلِّيهِمَا فَإِنْ أَشَارَ بِيَدِهِ فَاسْتَأْخِرِي عَنْهُ، قَالَتْ: فَفَعَلْتِ الْجَارِيَةُ، فَأَشَارَ بِيَدِهِ فَاسْتَأْخَرَتْ عَنْهُ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: " يَا بِنْتَ أَبِي أُمَيَّةَ سَأَلْتِ عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ، إِنَّهُ أَتَانَا أُنَاسٌ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ بِالْإِسْلَامِ مِنْ قَوْمِهِمْ فَشَغَلُونِي عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ فَهُمَا هَاتَانِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سُلَيْمَانَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ حَرْمَلَةَ كِلَاهُمَا، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام کریب سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عباس، عبدالرحمن بن ازہر اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہم نے انہیں نبی ﷺ کی زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا تو انہوں نے کہا۔۔۔ پھر انہوں نے عصر کے بعد کی دو رکعتوں کے بارے میں مکمل حدیث ذکر کی اور فرمایا: انہوں نے مجھے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی طرف بھیج دیا۔ پس سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو ان دونوں رکعتوں کو نماز عصر کے بعد پڑھنے سے منع کرتے ہوئے سنا ہے لیکن میں نے آپ ﷺ کو یہ دو رکعتیں پڑھتے ہوئے بھی دیکھا ہے۔ آپ ﷺ نے نماز عصر پڑھی اور میرے پاس تشریف لائے، اس وقت انصار میں سے بنو حرام کی چند عورتیں بھی میرے پاس بیٹھی ہوئی تھیں، آپ ﷺ نے ان دو رکعتوں کو پڑھا تو میں نے ایک لڑکی کو آپ ﷺ کے پاس بھیجا اور اسے آپ ﷺ کی ایک طرف کھڑے ہونے کے لیے کہا اور کہا کہ آپ انہیں بتائیں کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہہ رہی ہیں: اے اللہ کے رسول! میں نے آپ کو ان دو رکعتوں کو پڑھنے سے منع کرتے ہوئے سنا اور اب آپ کو انہیں پڑھتے ہوئے دیکھا ہے؟ اگر آپ ﷺ نے اشارہ کیا تو پیچھے ہٹ جانا۔ اس لڑکی نے ویسے ہی کیا تو آپ ﷺ نے ہاتھ سے اشارہ کیا تو وہ آپ ﷺ سے دور ہوگئی۔ جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”اے ابو امیہ کی بیٹی! تم نے نماز عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھنے کے متعلق دریافت کیا ہے۔ یہ اس لیے کہ قبیلہ عبدالقیس کے لوگ میرے پاس آئے تھے، انہوں نے اپنی قوم کے اسلام کے متعلق بتایا اور انہوں نے مجھے ظہر کے بعد کی دو رکعتوں سے مصروف رکھا۔ یہ دو رکعتیں وہی ہیں۔“