السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الإشارة فيما ينوبه في صلاته يريد بها إفهاما باب: نماز میں پیش آنے والے کسی معاملے میں اشارہ کرنا جب اس سے سمجھانا مقصود ہو
حدیث نمبر: 3415
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّهُ قَالَ: اشْتَكَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّيْنَا وَرَاءَهُ وَهُوَ قَاعِدٌ وَأَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُكَبِّرُ يُسْمِعُ النَّاسَ تَكْبِيرَهُ قَالَ: فَالْتَفَتَ إِلَيْنَا فَرَآنَا قِيَامًا، فَأَشَارَ إِلَيْنَا " وَذَكَرَ بَاقِي الْحَدِيثِ.حافظ ثناء اللہ
جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی ﷺ بیمار ہوئے تو ہم نے آپ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھی اور آپ ﷺ بیٹھے ہوئے تھے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ لوگوں تک آپ ﷺ کی تکبیر پہنچانے کے لیے آپ ﷺ کے پیچھے پیچھے تکبیر کہہ رہے تھے۔ رسول اللہ ﷺ ہماری طرف متوجہ ہوئے تو ہمیں کھڑے دیکھ کر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔