السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
جماع أبواب ما يجوز من العمل في الصلاة -- باب: الإشارة برد السلام باب: نماز میں جو عمل جائز ہے اس سے متعلق ابواب کا جامع بیان -- باب: اشارے سے سلام کا جواب دینے کا بیان
حدیث نمبر: 3399
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ إِلَى حَاجَةٍ لَهُ فَجَاءَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ: " إِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَرُدَّ عَلَيْكَ إِلَّا أَنِّي كُنْتُ أُصَلِّي ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے انھیں اپنی کسی ضرورت کے لیے بھیجا، وہ واپس آئے تو رسول اللہ ﷺ نماز پڑھ رہے تھے۔ انھوں نے آپ ﷺ کو سلام کیا تو آپ ﷺ نے سلام کا جواب نہ دیا اور اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا۔ پھر جب آپ ﷺ نے نماز سے سلام پھیرا تو فرمایا: ”میں تمہارے سلام کا جواب ضرور دیتا مگر میں نماز میں تھا۔“